کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 206
سوال5:مدینہ میں سات امام بہت بڑے پایہ کے گزرے ہیں۔ جو افضل وکبار تابعین سے ہیں اور جو فقہائِ سبعہ کے لقب سیے مشہور ہیں اور جن کے علوشان واسمائے گرامی کو کسی شاعر نے ان دوشعروں میں اِس طرح ظاہر کیا ہے۔ ؎ الا کل من لا یقتدی بائمۃ فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجۃ فخذھھم عبدی اللہ عروۃ قاسم سعید ابوبکر سلیمان خارجۃ یعنی یادر کھو کہ جو لوگ ان ائمہ(جن کے نام ابھی لئے جائیں گے) کی اقتدا نہ کریں اُن کی تقسیم ظالمانہ اور نامنصفانہ ہے اور وہ حق سے خارج ہیں وہ ائمہ یہ ہیں۔ عبید اللہ بن عبد اللہ، عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد ابی بکر الصدیق، سعید بن مسیب، ابو بکر بن عبد الرحمن، سلیمان بن یسار، کارجہ بن زید،ان فقہائِ سبعہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا یا چھ تکبیروں پر؟ جواب:اس فقہائِ سبعہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا۔ جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ترمزی کے کلام مذکور سے معلوم ہوتا ہے ، اور حافظ عراقی نے اِ س کی تصریح کی ہے۔ وھو قول الفقھاء السبعۃ من اھل المدینہ یعنی مدینہ کے فقہائِ سبعہ کا بھی یہی مسلک تھا۔ سوال 6:خلفائِ بنی امیہ میں خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا علم وفضل اور تقویٰ واتباعِ سنت مشہور ہے۔ آپ خلفائِ راشدین میں شمار ہوتے ہیں۔ میمون بن مہران کہتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز کے سامنے اور علماء ِ کرام ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے استاذ کے سامنے شاگرد، پس سوال یہ ہے کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ بن عبد العز یز کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا یا چھ تکبیروں پر ؟ جواب:خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ بن عبد العزیز کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا، شرح معانی الآثار میں ہے: حدثنا ابو بکر ۃ قال ثناروح قال ثنا عتاب بن بشیر عن خصیف ان عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا ن یکبر سبعارخمسا۔ یعنی خصیف سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نماز عیدین میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے۔ اور بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے عمر رحمۃ اللہ علیہ بن العزیز کے اِ س اثر کو دوسری سند سے بایں لفظ روایت کیا ہے۔ عن ثابت بن قیس قال شھدت عمر بن عبدا لعزیز یکبر فی الاولیٰ سبعا قبل القراء ۃ وفی الاخرۃ خمسا قبل القراء ۃ۔ یعنی ثابت بن قیس کہتے ہیں کہ میں عمر بن العزیز کے ہاں آیا وہ نمازِ عیدین میں پہلی رکعت میں قبل قرأت کے سات اور دوسری رکعت میں قبل قرأت کے پانچ تکبیریں کہتے تھے۔