کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 214
کہ میں عمر و بن شعیب کی حدیث (مذکور) پر عمل کرتا ہوں۔ اوراس حدیث کو ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے اور علی بن مدینی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ علامہ شوکانی نیل الاوطار میں لکھتے ہیں: حدیث عمرو بن شعیب قال العراقی اسنادہ صالح۔ حافظ عراقی نے کہا کہ عمرو بن شعیب کی حدیث کی سند صالح ہے۔ اور حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے عمرو بن شعیب کی حدیث مذکور کیس ند کو حسن بتایا ہے جیسا کہ دوسرے باب کے شروع میں معلوم ہو گا۔ الحاصل عمر وبن شعیب کی حدیث مذکور بلاشبہ صحیح وقابل احتجاج ہے اور اس حدیث کی تائید ذیل کی دس روایتوں سے ہوتی ہے۔ (عمر وبن شعیب کی حدیث مذکور کی شواہد ومؤیدات) پہلی روایت امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے سنن کبریٰ میں روایت کی ہیـ۔ عن الزبیدی عن الزھری عن حفص بن عمر بن سعد بن قرظ ان اباہ وعمومتہ اخبر وہ عن ابیھم سعد بن قرظ ان السنۃ فی الاضحی والفطر الخ کذافی ، الجوھر النقی۔ سعد قرظ ؓسے روایت ہے کہ نمازِ عید الاضحی اور عید الفطر میں بارہ تکبیریں کہنا سنت ہے۔ سات تکبیریں پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔ واضح ہو کہ سعد رضی اللہ عنہ قرظ ایک مشہور صحابی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں موضع قبا میں اذان دیا کرتے تھے۔اور جب کوئی صحابی رضی اللہ عنہ کہے کہ سنت یہ ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مراد ہوتی ہے کما تقرر فی مقرہ۔ نیز واضح ہو کہ سنن کبریٰ کی اس روایت میں سعد بن قرظ رضی اللہ عنہ واقع ہے اور معرفۃ السنن کی روایت میں سعد القرظ واقع ہے۔ اور صواب سعد القرظ ہے کتب رجال حدیث میں سعد القرظ ہی وارد ہے۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ