کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 219
عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیرات ہیں اور دوسری رکعت میں پانچ۔ یہ کل دس روایتیں ہوئیں {تلک عشرہ کاملۃ} اور یہ کل روایتیں عمر بن شعیب کی حدیث مذکور کی مؤید وشاہد ہیں ۔پس عمر بن شعیب کی حدیث بالا شبہ صحیح اور قابلِ احتجاج ہے۔ سوال نمبر 2: عمر بن شعیب مذکور کی سند میں عبد اللہ بن عبدا لرحمن طائفی واقعی ہیں۔ ان کی نسبت امام طحاوی شرح معانی الاثار میں لکھتے ہیں۔ لیس عند ھم بالذی یحتج بروایتہٖ۔ عبد اللہ بن عبد الرحمن کی روایت قابلِ احتجاج نہیں ہوتی ہے۔ اور علامہ علاؤ الدین ’’جو ہرالنقی‘‘ میں لکھتے ہیں۔ عبد اللہ الطائفی متکلم فیہ قال ابو حاتم والنسائی لیس بالقوی فی کتاب ابن الجوزی ضعفہ یحییٰ انتھی۔ عبد اللہ طائفی متکلم فیہ ہیں ابو حاتم اور نسائی نے کہا ہے کہ یہ قوی نہیں ہیں اور یحییٰ بن معین نے ان کو ضعیف کہا ہے۔ جواب :ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن عبد الرحمن طائفی کی توثیق کی ہے اور یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے بارے میں لکھا ہے صالح اور ابن عدی نے لکھا ہے۔ ھو ممن یکتب حدیثہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے مقارب الحدیثاور یہ تینوں لفظ الفاظ تعدیل سے ہیں اور ابن عدی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کی تمام حدیثیں جو عمر و بن شعیب سے مروی ہیں مستقیم ہیں۔ چنانچہ میزان الاعتدال میں ہے۔ ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال ابن معین صویلح وقال ابن عدی اما سائر حدیثہ فعن عمر و بن شعیب وھی مستقیمۃ فھو ممن یکتب حدیثہ اور خلاصہ میں ہے قال یحییٰ صالح ۔ رہے ابو حاتم ، نسائی اور یحییٰ بن معین کہ انھوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمن پر