کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 221
بن عبد الرحمن ضعیف ہیں۔ جواب: جب یحییٰ بن معین سے کسی روای کے بارے میں جرح بھی منقول ہوا اور تعدیل بھی تو اس سے ہر گز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ راوی ان کے نزدیک ضعیف وناقابلِ احتجاج ہے ۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ بذل الماعون میں لکھتے ہیں: وقد وثقہ ابا بلج یحییٰ بن معین والنسائی ومحمد بن سعد والدارقطنی ونقل ابن الجوزی عن ابن معین انہ ضعفہ فان ثبت ذلک فقد یکون سئل عنہ وعمن فوقہ فضعفہ بالنسبۃ الیہ وھذہ قاعدۃ جلیلۃ فیمن اختلف النقل عن ابن معین فیہ نبہ علیھا ابو الولید الباجی فی کتابہ رجال البخاری کذافی الرفع والتکمیل ۔ یحییٰ بن معین ،نسائی ، دارقطنی ، محمد بن سعد نے ابو بلج کی توثیق کی ہے۔ اور ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ یحییٰ بن معین نے ابو بلج کو ضعیف کہا ہے۔ پس اگر یہ ثابت ہو تو بات یوں ہو گی کہ ابن معین سے ابو بلج کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو گا اور کسی اور راوی کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا ہو گا۔ جو ابو بلج سے زیادہ ثقہ ہو گا۔ پس ابن معین نے اسی دوسرے زیادہ ثقہ راوی کے اعتبار سے ابو بلج کو ضعیف کہا ہو گا اور یہ ایک قاعدہ جلیلہ ہے ان راویوں کی بابت جن کے بارے میں ابن معین رحمۃ اللہ علیہ سے توثیق اور تضیعف دونوں منقول ہو اس قاعدہ کو ابو الولید باجی نے اپنی کتاب رجال البخاری میں ذکر کیا ہے۔ اور علامہ سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں۔ مما ینبہ علیہ انہ ینبغی ان تتأمل اقوال المزکین و مخارجھا فیقولون فلا ن ثقۃ اوضعیف ولا یریدون بہ انہ ممن یحتج بحدیثہ ولا ممن یردوانما ذلک بالنسبۃ لمن قرن معہ علی