کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 223
عبد اللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے، جیسا کہ ابو داود کی روایتمنقولہ میں اس کی تصریح موجود ہے اور عمرو نے اپنے باپ شعیب سے سنا ہے اور شعیب کو بھی اپنے داد ا عبد اللہ بن عمرو سے سماع حاصل ہے خلاصہ میں ہے۔ قال الحافظ ابو بکر بن زیاد صح سماع عمر ومن ابیہ وصح سماع شعیب من جدہ عبد اللہ بن عمر وقال البخاری سمع شعیب من جد ہ عبد اللہ بن عمرو۔ یعنی حافظ ابو بکر بن زیاد نے کہا کہ عمرو کے سماع کا وجود ان کے باپ سے صحیح ہے اور شعیب کا بھی سماع ان کے داد ا عبد اللہ بن عمرو سے صحیح ہے۔ خلاصہ کے حاشیہ میں بحوالہ تہذیب لکھا ہے۔ قال الجوز جانی قلت لا حمد سمع من ابیہ شیئاً قال یقول حدثنی ابی قلت فابوہ سمع من عبد اللہ بن عمرو وقال نعم اراہ وقد سمع منہ جو زجانی نے کہا کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے دریافت کیا کہ عمرو نے اپنے باپ سے سنا ہے؟ آپ نے کہا عمرو کہتے تھے کہ میرے باپ نے مجھ سے حدیث بیان کی ہے، پھر میں نے دریافت کیا عمرو کے باپ شعیب نے عبد اللہ بن عمرو سے سنا ہے؟ آپ نے کہا کہ ہاں۔ تخریج زیلعی(ص۳۲ج۱) میں ہے۔ قد ثبت فی الدارقطنی وغیرہ بسند صحیح سماع عمرو من ابیہ شعیب وسماع شعیب من جدہ عبد اللہ۔ دارقطنی وغیرہ میںسند صحیح سے ثابت ہے کہ عمرو نے اپنے با پ شعیب سے سنا ہے اور شعیب کو بھی اپنے دادا عبد اللہ بن عمرو سے سماع حاصل ہے۔