کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 225
واضح ہو کر پہلی روایت کو یعنی سعد قرظ کی روایت کو علامہ علا والدین نے جو ہر النقی میں سنن کبریٰ سے نقل کیا ہے، لیکن آپ نے اس کی پوری سند نقل نہیں کی، اس لیے معلوم نہیں کہ بقیہ نے اپنے شیخ سے بصیغہ عن روایت کی ہے یا بلفظ تحدیث، اگر بلفظ تحدیث روایت کی ہے تو اس تقدیر پر یہ روایت اکیلی ہی بعض آئمہ حدیث کے نزدیک مقبول وقابلِ احتجاج ہے۔ اس واسطے کہ ان بعض آئمہ حدیث نے اس بات کی صراحت کر دی ہے کہ اگر بقیہ ثقات سے بلفظ حدثنا یا اخبرنا روایت کریں تو ثقہ ہیں اور ان کی روایت مقبول ۔ خلاصہ میں ہے۔ قال النسائی اذا قال حدیثنا واخبرنا فھو ثقۃ قال ابن عدی اذا حدیث عن اھل الشام فھو اثبت قال الجوز جانی اذا حدث عن الثقات فلا باس بہ۔ یعنی امام نسائی فرماتے ہیں کہ بقیہ جب اور ثنا رحمۃ اللہ علیہ اور ’’اخبرنا‘‘ کے لفظ سیروایت کریں تو وہ ثقہ ہیں امام ابن عدی فرماتے ہیں کہ بقیہ جب شامیوں سے روایت کریں تو ان کی روایت قابلِ قبول ہو گی اور جو زجانی کہتے ہیں کہ جب وہ ثقہ راویوں سے روایت کریں تو اس وقت ان کی روایت لے لی جائے گی۔ اور میزان الاعتدال میں ہے۔ قال غیر واحد من الائمۃ بقیۃ ثقۃ اذا روی عن الثقات بقیہ جب ثقہ راویوں سے روایت کردیں تو اس وقت وہ ثقہ شمار ہو نگے۔ پس اس لحاظ سے جب ان کی روایت بالقراد ہا بعض محدثین کے نزدیک مقبول وقابلِ احتجاج ہے تو استثہاد کے لیے تو بد رجہ اولیٰ لائقِ احتجاج ہو گی۔ الحاصل ہر لحاظ سے بقیہ کی روایت شواہد میں پیش کی جاسکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم سوال نمبر 6: دوسری روایت جو جامع ترمذی سے نقل کی گئی ہے۔ اس کی سند میں کثیر بن عبد اللہ واقع ہیں جو ضعیف ہیں۔ پس ان کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہوئی، پھر ترمذی کا اس روایت کو حسن کہنا کیونکر صحیح ہو گا اور بعض اہلِ علم نے جو ترمذی کی تحسین پر انکار کیا ہے اس