کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 226
انکار کا کیا جواب ہو گا؟ جواب: چونکہ روایات مذکورہ بالا اس دوسری روایت کی شاہد ہیں پس انھیں شواہد کی وجہ سے ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے اور کسی روایت ضعیف کو بوجہ اس کے شواہد کے حسن کہنا صحیح ہے۔ دیکھو معاذ ؓکی یہ روایت ان فی کل ثلاثین بقرۃ تبیعا وفی کل اربعین مسنۃ ضعیف ہے، مگر بوجہ شواہد کے ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں لکھتے ہیں۔ انما حسنہ الترمذی الشواھد ہ یعنی اس روایت کو ترمذی نے بوجہ اس کے شواہد کے حسن کہا ہے اس تقریر سے ان اہلِ علم کا جوابب بھی حاصل ہو گیا۔ جنھوں نے ترمذی کی تحسین پر مواخذہ کیا ہے ۔ نیل الاوطار میں ہے۔ قال احافظ فی التلخیص وقد انکر جماعۃ تحسینہ علی الترہ زی واجاب النووی فی الخلاصۃ عن الترمذی فی تحسینہ فقال لعلہ اعتضد بشواہد وغیرھا انتھٰی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم سوال نمبر7:چوتھی روایت کی سند میں ابراہیم بن ابی یحییٰ وافع ہیں، جن کو یحییٰ القطان نے کذاب کہا ہے۔ پھر ان کی روایت شواہد میں کیوں ذکر کی گئی ؟ جواب : ابراہیم بن ابی یحییٰ کو اگرچہ قطان نے کذاب کہا ہے،مگر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث میں ثقہ ہیں اور امام ممدوح نے ان سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں اور سفیان ثوری اور ابن جریج اور بڑے بڑے محدثین نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ ابن عقدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیمم بن ابی یحییٰ کی حدیث میں غور وفکر کیا اور اس کو دیکھا تو معلوم ہوا وہ منکرہ الحدیث نہیں ہیں۔ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ میں نے بھی ان کی حدیثوں کی بہت دیکھا ،لیکن کوئی حدیث منکر نہیں پائی۔ حوالہ کے لیے دیکھئے میزان الاعتدال۔ پس جب ابراہیم بن ابی یحییٰ کے بارے میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن عقدہ اور ابن عدی کا قول ہے تو ان کی کسی