کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 227
حدیث کے استشہاداً ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوال نمبر 8:پانچویں روایت جو دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کی گئی ہے وہ بواسطہ عبد اللہ بن محمد بن عمار مروی ہے اور ان لوگوں کے بارے میں یحییٰ بن معین نے لیس بشی ئٍ کہا ہے میزان الاعتدال میں ہے۔ قال عثمان بن سعید قلت لیحی کیف ھؤلاء قال لیسوا بشیء۔ عثمان بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ ابن معین سے ان لوگوں کے بارہ میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: لیسی بشیئٍ اور حافظ زیلعی تخریج ہدایہ میں اس روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں ۔ عبد اللہ بن محمد بن عمار قال ابن معین فیہ لیس بشیء عبدللہ بن محمد کے بارہ میں یحییٰ بن معین نے یہی الفاظ دہرائے کہ’’لیس بشیء‘‘ پس یہ روایت شواہد میں کیوں ذکر کی گئی ؟ جواب : جب یحییٰ بن معین کسی راوی کے بارے میں’’لیس بشیء‘‘کہیں تو اس لفظ سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ راوی ضعیف ہے۔ بلکہ اس لفظ سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کی حدیثیں تھوڑی ہیں۔ یعنی اس نے زیادہ حدیثیں روایت نہیں کی ہیں۔ پس عبد اللہ بن محمد بن عمار کے بارے میں جو انھوں نے لیسوا بشی کہا ہے سو اس لفظ سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے زیادہ حدیثیں مروی نہیں ہیں۔ لیکن اس لفظ سے ان لوگوں کا ضعف ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔ حافظ ابن حجر فتح الباری میں عبد العزیز بن المختار کے ترجمہ میں لکھتے ہیں۔ ذکر ابن القطان الفارسی ان مراد ابن معین من قولہ لیس بشی ء یعنی ان احادیث قلیلۃ انتھٰی