کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 233
لا اعرف حالہ۔ کہ ابو عائشہ کے بارہ میں امام ابن حزم نے کہا ہے کہ وہ مجہول ہے اور ابن قطان نے کہا ہے کہ میں اس کے حال کو نہیں جانتا۔ اور یہی فتح القدیر حاشیہ ہدایہ میں ہے۔ لیکن ابو عائشہ فی سند ہ قال ابن القطان لا اعرف حالہ وقال ابن حزم مجھول اور اس بات کا ثوبت کہ’’ابو عائشہ کے سوا جتنے ثقہ راوی اس حدیث کو روایت کرتے ہیں سب کے سب موقوفاً روایتت کرتے ہیں۔‘‘ یہ ہے کہ اس حدیث کو ابو عائشہ کے سو اچار ثقہ راویوں نے روایت کیا ہے اور چاروں نے موقوفاً روایت کیا ہے ان چاروں ثقہ راویوں کے نام یہ ہیں۔ علقمہ، اسود، عبد اللہ بن قیس، کردوس۔ اور اس حدیث کو ایک مجہول شخص نے روایت کیاہے۔ اس نے بھی موقوفاً ہی روایت کیا ہے۔ اب ہر ایک کی روایت نقل کی جاتی ہے۔ مصنف عبد الرزاق میں ہے۔ اخبرنامعمر عن ابی اسحق عن علقمۃ واسود قال کان ابن مسعود جالسا وعند ہ حذیفۃ وابو موسیٰ الاشعری فسألھم سعید بن العاص عن التکبیر فی صلواۃ العیدن فقال حذیفۃ سل الاشعری فقال الا شعری سل عبد اللہ فانہ اقد منا واعلمنا فسألہ فقال ابن مسعود یکبر اربعا ثم یقرأثم یکبر فیہ ییر کع فیقوم فی الثانیۃ فیقراء ثم یکبر اربعا بعد القراء ۃ کذافی تخریج الزیلعی۔ علقمہ اور اسود نے کہا کہ ابن مسعود بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے پس سعید بن عاص نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ نمازِ عید میں کتنی تکبیریں کہی جائیں؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابو