کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 235
نے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے اور ان چاروں ثقہ راویوں کے علاوہ ایک مجہول شخص نے حدیث مذکور کوروایت کیا ہے اس نے بھی موقوفاً ہی روایت کیا ہے۔ دیکھو جوہر النقی (ص۲۴۳ج۱) واضح ہو کہ حدیث مذکور کے مرفوعاً صحیح نہ ہونے کی ایک وجہ اور بھی ہے وہ یہ کہ اس حدی؟ث کی سند میں عبد الرحمن ابن ثوبان واقع ہیں اور یہ متکلم فیہ ہیں تخریج زیلعی میں ہے۔ قال ابن معین ھو ضعیف وقال احمد لم یکن ھو بالقوی واحادیثہ مناکیر یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ وہ قوی نہیں اور اس کی روایت کردہ احادیث کے منکر ہیں۔ امام نسائی اور ابن عدی وغیرہ نے بھی اس کی تضعیف کی ہے۔ چنانچہ میزان الاعتدال میں ہے۔ قال النسائی لیس بالقوی وقال ابن عدی یکتب حدیثہ علی ضعفہ وقال العقیلی لایتابع عبد الرحمن الامن ودنہ او مثلہ پس جبکہ عبد الرحمن بن ثوبان متکلم فیہ ہیں اور ان کے سوا کسی ثقہ نے زیادت رفع کو روایت بھی نہیں کیا، بلکہ سب نے موقوفاً روایت کیا ہے تو عبد الرحمن بن ثوبان کی وجہ سے بھی حدیث مذکور کا مرفوعاً صحیح نہ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔فتفکر وتدبر بہر حال حدیث مذکورکا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ موقوف روایت ہے یعنی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ امام بیہقی سنن کبریٰ میں حدیث مذکور کو روایت کر کے لکھتے ہیں۔ خولف راویہ فی موضعین فی رفعہ وفی جواب ابی موسیٰ والمشھور رانھم اسند وہ الی ابن مسعود فافتا ھم بذلک ولم یسندہ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کذا رواہ السبیعی عن عبد اللہ بن موسیٰ او ابن ابی موسیٰ ان سعید بن العاص ارسل الخ وعبدا لرحمن بن ثابت بن ثوبان ضعفہ ابن معین کذافی الجوھر النقی۔