کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 236
یعنی اس حدیث کے راوی کی دو جگہ مخالفت کی گئی ہے۔ ایک اس حدیث کے مرفوع کرنے میں اور دورے ابو موسیٰ جواب میں اور مشہور یہ ہے کہ ابو موسیٰ وغیرہ نے سعید بن عاص کو کہا کہ آپ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کریں پس انھوں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے چھ تکبیریں کہنے کا فتویٰ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان کو منسوب نہیں کیا۔ اسی طرح سبیعی نے عبد اللہ بن موسیٰ یا ابن ابی موسیٰ سے روایت کیا ہے اور عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان کو یحییٰ بن معین نے ضعیف کہا ہے۔ اور امام ممدوح معرفۃ السنن میں لکھتے ہیں۔ وعبد الرحمن ھذا قد ضعفہ یحییٰ بن معین والمشھور من ھذا القصۃ انھم اسند واامرھم الی ابن مسعود فافتاہ ابن مسعود باریع فی الاولیٰ قبل القراء ۃ واربع فی الثانیۃ بعد القراء ۃ ویرکع لرابعۃ ولم یسند ہ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کذلک رواہ ابو اسحاق السبیعی وغیرہ عن شیوخھم ولو کان عند ابی موسیٰ فیہ علم من النبی صلی اللہ علیہ وسلم لما کان یسالہ عن ابن مسعود وروی عن علقمۃ عن عبد اللہ انہ قال خمس فی الاولی واربع فی الثانیۃ وھذا یخالف الروایۃ الاولی انتھٰی ۔ یحییٰ بن معین نے عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان کو ضعیف کہا ہے اور مشہور اس روایت میں یہ ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اپنے امر کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف مسند کیا ۔پس ابنمسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو فتویٰ دیا کہ