کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 237
پہلی رکعت میں قبل قراء ت کے چار تکبیریں اور دوسری رکعت میں بعد قراء ت کے چار تکبیریں مع تکبیر رکوع کے کہنا چاہیے، اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا اسی طرح ابو اسحاق سبیعی وغیرہ نے اپنے شیوخ سے روایت کیا اور اگر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس چھ تکبیروں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث ہوتی تو وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہ دریافت کرتے اور علقمہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پہلی رکعت میںپانچ اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہنا چاہیے، اور یہ روایت پہلی روایت کے مخالف ہے، جبکہ پہلی روایت میں چار چار تکبیروں کا ذکر ہے اور اس میں پانچ اور چار کا۔ تنبیہ علامہ علاؤالدین نے امام بیہقی کے اس کلام کی جو کو انھوں نے سنن کبریٰ میں لکھا ہے جو ہر النفی میں نقل کیا ہے، پھر اس کا جواب دیا ہے ، اس جواب کو یہاں نقل کر کے اس کی حقیقت ظاہر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ علامہ ممدوح جو ہر النقی میں لکھتے ہیں۔ قلت اخرجہ ابوداود کما اخرجہ البیہقی اولاوسکت عنہ یعنی ابو عائشہ کی حدیث کو ابو داود نے روایت کیا ہے جیسا کہ بیہقی نے پہلے روایت کیا ہے اور ابو داود نے اس پر سکوت کیا ہے۔ اقول: یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ جس حدیث پر ابوداود سکوت کریں وہ صحیح یا حسن ہو۔ اور اگر امام ممدوح کے نزدیک یہ کلیہ مسلم ہو تو عمر بن شعیب کی بارہ تکبیروں کی حدیث اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی بارہ تکبیروں کی حدیث جو پہلے باب میں گزر چکی ہے،