کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 238
امام ممدوحح کے نزدیک صحیح یا حسن ہو گی۔ کیونکہ ابوداود نے ان دونوں حدیثوں کو اپنے سنن میں روایت کیا ہے۔ اور ان دونوں پر سکوت کیا ہے اور علامہ ممدوح کا ان دونوں حدیثوں کو ضعیف بتانا غلط ہو جائے گا۔ تعجب ہے کہ عمرو بن شعیب اور عائشہ رضی اللہ عنہاکی حدیث پر ابوداود نے جو سکوت کیا ہے یہ سکوت تو علامہ ممدوح کے نزیک موجب صحت یا حسن کا نہ ہوا۔ حالانکہ عمر وبن شعیب کی حدیث کی تصحیح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ جیسے ناقدین فن اور ماہرین رجال نے کی ہے اور ابو عائشہ کی حدیث پر ابو داود نے جو سکوت کیا ہے یہ سکوت ابو عائشہ کی کسی ناقدفن نے نہ تصحیح کی ہے اور نہ تحسین ،بلکہ امام بیہقی وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ پھر علامہ ممدوح لکھتے ہیں ومذھب المحققین ان الحکم للرافع لانہ ذاد یعنی محققین کا مذہب یہ ہے کہ جب کسی حدیث کو کوئی راوی مرفوعاً روایت کرے اور کوئی موقوفاً فرموع روایت کرنے والے کی روایت مقبول ہو گئی، کیونکہ اس نے ایک زائد بات کی رواتی کی ہے۔ اقول : بہت تعجب ہے علامہ علاؤالدین جیسے علامہ پر کہ آپ کو محققین کا یہ مذہب معلوم ہواور کیا آپ کو محققین کا یہ مذہب معلوم نہ تھا کہ ہر ایک راوی کی زیادتی مقبول نہیں ہوتی ہے، بلکہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے اور وہ بھی کب؟ کہ جب علت شذوذ سے پاک ہو اور زیرِ بحث سند میں فرموع روایت کرنے والے (ابو عائشہ) ثقہ نہیں ہیں،بلکہ مجہول ہیں اور مجہول کی زیادتی بالاتفاق نا مقبول وغیرمعتبر ہوتی ہے اور اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے اس رافع مجہول سے چشم یوشی بھی کرلیں تو بھی رفع کی زیادت علت شذوذ سے پاک نہیں ہو سکتی۔ ؎ فان کنت لا تدری تفلک مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم