کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 240
سوال نمبر3: یہ تو ثابت ہوا کہ ابوعائشہ کی حدیث مذکور کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے،بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے،مگر علامہ ؤالدین وغیرہ نے لکھا ہے کہ یہ قول ایسا ہے کہ اس میں رائے وقیاس کو دخل نہیں ۔ پس یہ قول حکما مرفوع ہوا؟ جواب: ابن مسعود رضی اللہ عنہاکا یہ قول حکماً مرفوع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس میں رائے وقیاس کو دخل ہے اسو حبہ سے کہ نمازِ جنازہ کی چار تکبیروں پر نمازِ عیدین کی تکبیروں کا قیاس ہو سکتا ہے اور ابو عائشہ کی حدیث مذکورمیں لفظ تکبیرہ علی الجنائز اس کی تائید کرتا ہے۔ امام بیہقی سنن کبریٰ میں لکھتے ہیں ۔ ھذا رائے من جھۃ عبد اللہ کہ یہ عبد اللہ بن مسعود کی رائے ہے۔ اور علامہ ؤالدین وغیرہ کا یہ لکھنا کہ ’’اس قول میں رائے وقیاس کو دخل نہیں‘‘ اور اس کی دلیل یہ بیان کرنا کہ سات تکبیروں اور سات سے کم اور سات سے زیادہ میں رائے وقیاس کی جہت سے کچھ فرق نہیں ہے۔‘‘ صحیح نہیں ہے،کیونکہ رائے واجتہاد کی جہت سے عیدین کی تکبرات کا قیاس جنازہ کی تکبیرات پر ہو سکتا ہے جیسا کہ تکبیرات عیدین کے رفع الیدین کا قیاس تکبیراتِ جنازہ میں رفع الیدین پر حنابلہ کے نزدیک ہو سکتا ہے پس فرق کی وجہ ظاہر ہے۔ ہاں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بارہ تکبیروں کے قائل ہیں ان کے قول میں رائے وقیاس کو البتہ کچھ دخل نہیں ہے۔ کیونکہ بارہ تکبیروں کا کوئی مقلیس علیہ نہیں ہے اور اگر فرض کیاجائے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول حکماً مرفوع ہے تو یہ بھی قول بارہ تکبیروں کی حدیثوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جو حقیقتہً فرفوع ہیں اور پھر مختلف فیہ مسئلہ میں قول صحابی کو حکماًمرفوع کہنا ویسے بھی غلط ہے۔’’حسان‘‘ کما تقر ر فے مقررہ واللہ تعالیٰ اعلم سوال نمبر 4: علامہ ابن الہمام علامہ علاؤالدین اور حافظ زیلعی وغیرہم جو چھ تکبیروں کے ثبوت میں صرف ابو عائشہ کی حدیث مذکور پیش کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے کیا اس بارے میں کوئی اور حدیث مرفوع آئی ہی نہیں ہے؟ یا آئی ہے ،مگر یہ لوگ اس کو ناقابل