کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 242
اعا جیب وما اراھا الا من قبل القاسم وقال ابن حبان یروی عن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المعضلات ویاتی عن الثقات المقلوبات حق بسبق الی القلب انہ کان المعتمد لھا انتھٰی۔ یعنی قاسم کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے کہا ہے کہ ان سے علی بن یزید عجیب عجیب حدیثیں روایت کرتے ہیں اور میرا گمان یہی ہے کہ یہ حدیثیں انھیں قاسم کے جانب سے ہیں اور ابن حبان نے کہا کہ قاسم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معضل حدیثیں روایت کرتے ہیں اور ثقہ راویوں سے مقلوب حدیثوں کو نقل کرتے ہیں یہاں تک کہ دل میں یہ بات آتی ہے کہ انھوں نے قصداً ایسا کیا ہے۔ پس جب طحاوی کی اس حدیث کو سند میں وضین بن عطا ضعیف ہیں اور قاسم کی یہ حالت ہے تو یہ حدیث کیونکر قابلِ احتجاج ہو سکے گی۔ علاوہ اس کے اس حدیث میں صرف چار چار تکبیریں کہنے کا ذکر ہے اور اس امر کا بیان نہیں ہے کہ یہ چار چار تکبیریں دونوں رکعتوں میں قبل قراء ت کے تھیں یا پہلی رکعت میں قبل قراء ت کے تھیں اور دوسری رکعت میں بعد قراء ت کے۔ پس یہ حدیث اس وجہ سے بھی حنفیہ کے نزدیک قابلِ استدلال نہیں ہو سکتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم اگرکوئی کہے کہ امام طحاوی نے اس حدیث کو روایت کر کے لکھا ہے ۔ ھذاحدیث حسن الاسناد وعبد اللہ بن یوسف ویحییٰ بن حمزۃ والوضین والقاسم کلھم اھل روایۃ معروفون بصحۃ الروایۃ یعنی یہ حدیث حسن الاسناد ہے اور عبد اللہ بن یوسف اور یحییٰ بن حمزہ اور وضین اور قاسم یہ سب اہل روایت ہیں اور صحت روایت میں مشہور ہیں۔ تو جب امام طحاوی نے اس حدیث کو حسن الاسنا د کہا اور اس کے روایت کی نسبت تصریح کر دی کہ یہ سب صحت روایت کے ساتھ مشہور ہیں، تب یہ حدیث کیونکر ضعیف