کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 243
وناقابلِ استدلال ہو سکتی ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب آپ خود علامہ علاؤالدین حنفی کی زبانی وضین بن عطا اور قاسم کی حالت معلوم کر چکے ہیں تو پھر باوجود اس کے کہ یہ دونوں راوی اس حدیث کی سند میں موجود ہیں اور امام طحاوی نے نہ ان کا کوئی متابع بیان نہیں کیا اور نہ ہی اس کا کوئی اور طریق ذکر کیا ہے تو یہ حدیث کیونکر حسن الاسناد ہو سکتی ہے اور امام طحاوی کا یہ قول ھذا حدیث حسن الاسناد الخ کیونکر قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ اور وہاں یہیں سے علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی فی الجملہ تصدیق ہو سکتی ہے ۔ جس کو انھوں نے امام طحاوی کے متعلق منہاج السنہ میں لکھا ہے کہ لیست عادتہ فقد الحدیث کنقد اھل العلم ولھزا روی فی شرح معانی الاثار الاحادیث المختلفۃ وانما یرجح ما یرحجہ منھا فی الغالب من جھۃ القیاس الذی راہ حجۃ ویکون اکثرہ مجروحا من جھۃ الاسناد ولا یثبت فانہ لم یکن لہ معرفۃ بالاسناد کمعرفۃ اھل العلم بہ و ان کان کثیر الحدیث فقیھا عالما انتھٰی یعنی جیسے علماء حدیث حدیث کی تنقید کرتے ہیں امام طحاوی کی ویسی تنقید کرنے کی عادت نہیں ہے اس لیے وہ شرح معانی الآثار میں مختلف حدیثوں کو روایت کر کے جو بعض حدیثوں کو بعض پر ترجیح دیتے ہیں تو اکثر قیاس سے ترجیح دیتے ہیں اور اس کو حجت سمجھتے ہیں۔حالانکہ اکثر ان میں سند کے اعتبار سے ضعیف ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام طحاوی اگر چہ کثیر الحدیث فقیہ اور عالم ہیں لیکن اور علمائِ حدیث کی طرح ان کو فن اسناد کا علم نہیں تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم۔ سوال نمبر5: جب طحاوی کی حدیث مذکور کی یہ حالت ہے اور ابو عائشہ کی حدیث مذکور کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے،بلکہ صحیح یہ ہے کہ وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور قول بھی ایسا کہ اس میں رائے وقیاس کو دخل ہے تو پھر چھ تکبیریں کہنے کا ثبوت کیا ہے؟