کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 244
جواب: چھ تکبیریں کہنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ثبوت صحیح نہیں ہے اس وجہ سے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے۔ والحدیث المسند مع ما علیہ عمل المسلمین والے ان یتبع یعنی بارہ تکبیروں کی حدیث مرفوع مسند پر عمل کرنا اولیٰ ہے اور اسی پر مسلمانوں کا عمل ہے۔ اور حافظ ابن عبد البر لکھتے ہیں۔ وھو اولیٰ ما عمل بہ۔ یعنی بارہ تکبیروں کی حدیث پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ وارحج ھذا الا قوال اولھا فی عدد التکبیر وفی محل القراء ۃ۔ یعنی تکبیراتِ عیدین کے عدد کے بارے میں اور تکبیراتِ عیدین کے بارے میں دس قول ہیں ان دسوں قول میں ارجح قول پہلا قول ہے ۔وہ یہ کہ پہلی رکعت میں قبل قراء ت کے سات اور دوسری رکعت میں قبل قراء ت کے پانچ تکبیریں کہی جائیں۔