کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 247
دلیل یہ ہے کہ تکبیرات عیدین میں ذکر مشروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوتا جیسا کہ تکبیروں کا کہنا منقول ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ ہر دو تکبیر کے درمیان وفقہ کرنا چاہیے اور وقفہ میں تہلیل وتکبیر کہنا چاہیے اور امام امحمد رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ کن لفظوں سے تہلیل وتکبیر کہی جائے اکثر شافعیہ کہتے ہیں کہ اس طرح کہنا چاہیے۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا للہ واللہ اکبر اور بعض کہتے ہیں کہ اس طرح کہنا چاہیے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیٔ قدیر۔ اورر حنابلہ کہتے ہیں کہ اس طرح کہنا چاہیے۔ اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکوۃ واصیلا وصلی اللہ علی محمدن النبی وسلم تسلیما کثیرا امام احمد کی دلیل وہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کا اثر ہے اور غالباً امام شافعی کی بھی وہی اثر ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم نیل الاوطار میں ہے۔ قد وقع الاختلاف ھل المشروع الموالا ۃ بین التکبیرات صلوۃ العید اوالفصل بینھما بشیء من التحمید والتسبیح ونحوذالک فذھب مالک وابو حنیفۃ والا وزاعی ای انہ یوالی بینھما کا التسبیح فی الرکوع والسجود قالوالا نہ لو کان بینھا ذکر مشروع لنقل کما نقل التکبیر وقال الشافعی انہ یقف بین کل التکبیرتین یھلل ویمجد ویکبر واختلف اصحابہ فیما یقولہ بین التکبیر تین فقال الا کثر ون یقول سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر وقال بعضھم