کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 68
چوتھا جواب مقام قبیلہ بنی عمرو بن عوف جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزولِ اجلال فرمایا تھا اورمسجدِ قبا کی بنیاد ڈالی تھی، عند الحنفیہ تو ابع مدینہ وفنائے مدینہ سے ہے۔ اور ہر اس مقام میں توابع مصر وفنائے مصر سے ہو اس میں عند الحنفیہ نمازِ جمعہ جائز ودرست ہے۔ اور اس مقام کے لوگوں پر نمازِ جمعہ واجب۔ پس مقام بنی عمرو بن عوف میں عند الحنفیہ نمازِ جمعہ جائز ہے۔ اور یہاں کے لوگوں پر نمازِ جمعہ واجب۔ صغریٰ کا ثبوت یہ ہے۔ کہ مقام بنی عمرو بن عوف مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے :قال العلماء منا زل بنی عمرو ببن عوف علی میلین من المدینہ انتھٰی۔اور جو مقام کہ مصر سے دومیل کے فاصلہ پر ہو وہ عند الحنفیہ تو ابع مصر وفنائے مصر سے ہے۔ درالمختار میں ہے۔ والمختار للفتویٰ تقدیرہ بفرسخ ذکرہ الولواجی۔ ’’فتویٰ کے واسطے مختاریہ ہے کہ فنائے مصر کا اندازہ ایک فرسخ یعنی تین میل مقرر کیا جائے۔‘‘ دیکھو فنائے مصر کی تقدیر جو مختار للفتویٰ بتائی گئی ہے۔ وہ تین میل ہے اور مقام بنی عمرو بن عوف تو مدینہ سے صرف دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ پس اس مقام کا فناء ِ مدینہ سے ہونا نہایت ظاہر ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ میں ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ سے