کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 71
واضح ہو کہ ان چاروں جو ابوں میں بپاسِ خاطر جناب شوق نمازِ جمعہ کا قبل ہجرتِ مکہ میں فرض ہونا کر لیا گیا ہے۔ ورنہ محقق یہ ہے کہ نماز جمعہ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ جیسا کہ جواب پنجم سے ظاہر ہو گا۔ پانچواں جواب پہلی دلیل کا اصل مداراس بات پر ہے۔ کہ نمازِ جمعہ بذریعہ وحی قبل ہجرتِ مکہ ہی میں فرض ہو چکی تھی،مگریہ بات محض بے دلیل اور بالکل بے اصل ہے ۔مکہ میں جمعہ کی فرضیت کسی دلیل سے ثابت نہیں،بلکہ بعض احادیث ضعیفہ سے بصراحت ثابت ہے۔ کہ نمازِ جمعہ بعد ہجرت مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے۔ ’واعلمواان اللہ قد افترض علیکم الجمعۃ فی مقامی ھذا فی یوم ھذا فی شھری ھذا الی یوم القیمۃ رواہ ابن ماجۃ فی ضمن حدیث ع جابر بن عبد اللہ] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان رکھواس بات کو کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر نمازِ جمعہ فرض کر دیا۔ میرے اس مقام میں ،میرے اس دن میں، میرے اس مہینہ میں، میرے اس سال سے قیامت تک۔‘‘ انجاح الحاجہ میں ہے۔ ظاھر ھذا الحدیث یدل علی ان ھذا القول منہ صلی اللہ علیہ وسلم صدر فی اول خطبۃ خطبھا فی مسجد الجمعۃ حین قدم المدینۃ وفھم من ذالک انھا لم تکن واجبۃ قبل ذلک انتھی۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی مدینہ میں آنے کے بعد اس خطبہ میں فرمایا ہے، جس کو مسجد نبوی میں اول اول پڑھا ۔ پس اس