کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 75
’’اپنی عورتوں اورلڑکوں کو جمعہ کے روز جمع کرو۔ اور جب آفتاب ڈھل جائے تو دو رکعت نماز پڑھو۔‘‘ دیکھو اس روایت میں عورتوں اور لڑکوں کو بھی نمازِ جمعہ پڑھنے کا حکم کیا گیا ہے۔ حالانکہ عورتوں اور لڑکوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے ۔پس اگر فرض کیا جائے کہ نمازِ جمعہ قبل ہجرتِ مکہ میں فرض ہو چکی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اہلِ مدینہ کو اقامتِ جمعہ کے لیے علی سبیل الفرض حکم کیا تھا تو لازم آئے گا کہ لڑکوں اور عورتوں پر بھی جمعہ فرض ہو۔ والازم باطل فالملزوم مثلہ۔ قال ومنھا ما اخرجہ عبد الرزاق باسناد قوی عن ابن سیرین قال جمع اھلِ المدینۃ قبل ان یقدمھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقبل ان تنزل الجمعۃ الخ اقول: اے ناظرین ! یہاں مؤلف کا تخبط قابلِ تماشا ہے۔ آپ نے یہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس فعل اجتہادی سے(کہ ان لوگوں نے قبلِ ہجرت وقبلِ نزول آیتِ جمعہ مدینہ میں اپنی رائے سے جمعہ قائم کیا تھا) فرضیت جمعہ قبلِ الہجرت پر احتجاج کیا ہے اور آپ (ص۱۱)میں انھیں صحابہ رضی اللہ عنہم کے اسی فعل اجتہادی کی نسبت یوں تحریر فرماتے ہیں:ـ ’’ان لوگوں نے اپنے رائے سے قبل نزول آیتِ جمعہ مدینہ میں جمعہ قائم کر دیا۔ پس فرضیت جمعہ ان کا وہ اجتہادی فعل قابلِ احتجاج نہیں۔‘‘ سبحان اللہ جس فعل اجتہادی کو(ص۱۱)میں ناقابلِ احتجاج بتائیں ،اسی فعل اجتہادی سے یہاں فرضیت جمعہ قبل الہجرت پر احتجاج کریں۔ اگر یہ تخبط نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ اور وہاں اے حضرت شوق یہ تو ترمائیے کہ آپ حضرات کا ایک یہ اصل ہے کہ کسی شے کی فرضیت بغیر دلیل قطعی کے ثابت نہیں ہو سکتی ۔ حتیٰ کہ احادیث آحاد سے بھی کوئی شے فرض نہیں ہو سکتی ۔ پھر آپ نے جمعہ جیسے فرض کی فرضیت قبل الہجرت کے ثبوت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے فعل اجتہادی کو کیوں پیش کیا ہے۔ کیا آپ اپنا وہ اصل بھول گئے۔ اچھا اس ے بھی جانے دیجئے ۔ دعویٰ تو آپ کا یہ تھا کہ نمازِ جمعہ قبل ہجرتِ مکہ میں بذریعہ وحی فرض ہوئی۔ اور آپ کی دلیل یہ کہتی ہے۔ کہ نمازِ جمعہ قبلِ ہجرت بذریعہ فعل اجتہادی صحابہ رضی اللہ عنہم کے فرض ہوئی کہیے دعویٰ اور دلیل میں مطابقت لا حول ولا قوۃ الا باللہ ؎