کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 78
نزدیک نویں ذی الحجہ کو صحرائے عرفات میں جمع بین الصلوٰتین جائز ہے، مگر اس سے کسی اور صحرا یا کسی اور مقام میں غیر موسم حج میں جمع بین الصلوٰ تین کا جائز ہونا عند الحنفیہ لازم نہیں آتا۔ تفصیلی جواب اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہلِ مکہ نے مقامِ عرفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ترک کی اور ظہر وعصر کو جمع کیا۔ اب غور طلب یہ ہے کہ اہلِ مکہ کے ترکِ نمازکی کیا وجہ ہے۔ سو واضح ہو کہ یہاں تین احتمال ہیں۔ اوّل: یہ کہ مقامِ عرفات غیر آبادی کی وجہ سے محلِ نمازِ جمعہ نہ تھا۔ اس وجہ سے اہلِ مکہ نے نمازِ جمعہ ترک کی۔ دوم: یہ کہ جس وجہ سے عن دالحنفیہ اہلِ مکہ نے نمازظہروعصر کو جمع کیا۔ اسی وجہ سے نمازِ جمعہ بھی ترک کی۔ سوم : یہ کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ عرفات میں مسافر تھے۔ اہلِ مکہ بھی مسافر تھے۔ اس وجہ سے اہلِ مکہ نے نمازِ جمعہ ترک کی۔ حضرت شوق کی یہ دوسری دلیل کی صحت موقوف ہے۔ احتمال اول کے صحیح ہونے اور احتمال دوم وسوم کے غلط وغیر صحیح ہونے پر۔ مگر معاملہ یہاں برعکس ہے۔ یعنی احتمال اول ہی غلط ہے اور احتمال دوم وسوم صحیح۔ لہٰذا سوق کی یہ دوسری دلیل بھی لغو اور بیکار ہے۔ احتمال اول کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مقام غیر آبد کا محلِ نمازِ جمعہ نہ ہونا کسی دلیل سے ثابت نہیں،بلکہ قرآن واحادیث وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے مقام آباد وغیرہ آباد ہر مقام کا محلِ نمازِ جمعہ ہونا ثابت ہے کما مرتحقیقہ پس بمقام عرفات اہلِ مکہ کے نمازِ جمعہ ترک کرنے کی یہ وجہ قرار دینا کہ غیر آبادی کی وجہ سے مقامِ عرفات محلِ نمازِ جمعہ نہ تھا ہر گز صحیح نہیں ہے۔ احتمال دوم اس وجہ سے صحیح ہے کہ جس طرح! عند الحنفیہ بمقام عرفات جمع بین الصلوٰتین کی علت نسک ہے۔ ترکِ نمازِ جمعہ کی بھی یہی نسک علت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی وجہ فارق نہیں ہے۔ کہ جمع بین الصلوٰۃ کی علت تو نسک ہو اور ترکِ نمازِ جمعہ کی علت نہ ہو۔ ومن ادعی الفرق فعلیہ البیان۔