کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 81
بعض محققین نے بہت صحیح فرمایا ہے: لقد کثر التلاعبب ببھذہ العبادۃ جتی وصل الی حد یفضی منہ العجب ’’فقہائِ حنفیہ کی جانب سے نمازِ جمعہ کے ساتھ اس کثرت سے تلاعب ہوا ہے کہ حد عجب کو پہنچ گیا ہے۔‘‘ جناب شوق کو فقہائِ حنفیہ کے ان دلیل اقوال سے تو کچھ تعجب نہ ہوا۔ اور تعجب ہوا تو جناب شیخ صاحب محدث یمانی کے قول سے جو قرآن واحادیث کے مطابق ہے۔ فیا عجیالھذا العجب قال : تیسری دلیل ۔ صحیحین میں ہے۔ عن عائشۃ زرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت کان الناس ینتابون الجمعۃ من منازلھم والعوالی انتھی مختصراً۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ باہر کے لوگ مدینہ طیبہ میں نماز جمعہ پڑھنے کو اپنے اپنے منازل وعوالی سے نوبت بہ نوبت آتے تھے۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ اہلِ عوالی پر نمازِ جمعہ فرض نہ تھی۔ اقول: اس تیسری دلیل کے بھی دو جواب ہیں۔ اجمالی اور تفصیلی اجمالی جواب اگر مؤلف کی یہ تیسری دلیل صحیح فرض کی جائے تو لازم آتا ہے کہ اہلِ مدینہ پر بھی نمازِ جمعہ فرض نہ تھی۔ کیونکہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں لفظ’’الناس‘‘ اہلِ مدینہ واہلِ عوالی دونوں کو شامل ہے۔ پس حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ معنی ہوئے کہ لوگ نمازِ جمعہ پڑھنے کو مسجد نبوی میں اپنے اپنے گھروں اور عوالی سے نوبت بنوبت آتے تھے۔ والازم باطل فالملزوم مثلہ اور مؤلف نے جو’’الناس ‘‘ کا ترجمہ باہر کے لوگ کیا ہے۔ یہ صریح غلطی