کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 82
ہے یا مغالطہ دہی ہے۔ تفصیلی جواب مؤلف نے ینتابون کا ترجمہ’’ نوبت بنوبت آتے تھے‘‘ کیا ہے۔ یہ بہت ہی بڑی غلطی ہے۔ لغت میں انتیاب کے معنی توبت بنوبت آنے کے نہیں ہیں،بلکہ اس کے معنی مرۃ بعد اخریٰ یعنی پیاپے اور بار بار آنے کے ہیں ۔صراح میں ہے۔ انتیاب پیاپے آمد ن یقال فلا ن انتیاب القوم ای اتاھم مرۃ بعد اخریٰ۔ قاموس میں ہے۔ انتابھم انتیاببا اتاھم مرۃ بعد اخریٰ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے۔ یقال ناب المکان انتابہ اذا تردد الیہ مرۃ بعد اخریٰ۔ اسی وجہ سے نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے۔ قولہ بنتابون الجمعۃ ای یحضرونھا مطلب حدیث کا یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نمازِ جمعہ پڑھنے کو اپنے اپنے گھر وں سے اور عوالی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں باربار اور ہمیشہ آیا کرتے تھے۔ انتیاب کے معنی نوبت بنوبت آنا سمجھنا صریح غلطی ہے۔ ہاں تناوب کے معنی البتہ نوبت بنوبت آنے کے ہیں ۔ اسی وجہ سے جہاں نوبت بنوبت آنامقصود ہے۔ وہاں لفظ تناوب باب تفاعل سے مستعمل ہوا ہے نہ انتیاب۔ صحیح بخاری کے باب التناوب فی العلم میں کنا نتناوب النزول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل یوم وانزل یوما اور باب فی فضل العشاء میں ہے۔عن ابی موسی قال کنت انا واصحابی الذین قدموا معی فی السفینۃ نزولا فی بقیع بطحان والنبی صلی اللہ علیہ وسلم بالمدینۃ فکان یتناوب النبی صلی اللہ علیہ وسلم عند صلوۃ العشاء کل لیلۃ نفر منھم الحدیث اور جہاں مرۃ بعد اخریٰ اور باربار آنا مراد ہے۔ وہاں لفظ انتیابب مستعمل ہوا ہے۔ مجمع البحار میں ہے۔ انتابہ اذا قصد ہ مرۃ بعد مرۃ ومنہ حدیث یا ارحم من انتابہ المسترحمون۔ پس حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ مطلب جو شوق نے لکھا ہے’’یعنی یہ کہ باہر کے لوگ مدینہ طیبہ میں نمازِ جمعہ پڑھنے کو اپنے اپنے منازل اور عوالی سے نوبت بنوت آتے تھے‘‘ محض غلط اور باطل ہے۔ اور اگر بفرض محال انتیاب کے معنی نوبت بنوبت آنے کے لغت سے ثابت بھی ہوں تو بھی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں یہ معنی ہر گز مراد نہییں ہو سکتے ،بلکہ’’ مرۃ بعد اخریٰ‘‘ حاضر ہونا اور باربار ہی آنا مراد لینا متعین ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔