کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 84
وجہ سوم بعض عوالی مدینہ سے صرف ایک میل کی مسافت پر ہیں۔ جیسے سخ صحیح بخاری میں ہے۔ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مات وابو بکر بالسخ قال اسماعیل لقنی بالعالیۃ۔ فتح الباری میں ہے۔بینہ وبین المدینہ میل اور اس کی زیادہ تحقیق چوتھی دلیل کے جواب میں آتی ہے۔ اور عند الحنفیہ مدینہ سے ایک میل کے رہنے والوں پر جمعہ فرض ہے۔ جیسا کہ خود مؤلف نے(۱۱) میں اس کی تصریح کی ہے۔ پس اگر ینتابوں کے وہی معنی مراد لیے جائیں جو شوق صاحب نے بیان کیا ہے تو لازم آتا ہے کہ ان اہلِ عوالی پر بھی جمعہ فرض نہ ہو جو مدینہ سے ایک میل کی مسافت پر ہیں۔ والازم باطل فالملزوم مثلھ وجہ چہارم التلخیص الجیر (ص۱۳۹)میں ہے۔ روی ابو داود فی المراسیل عن بکیر بن الا شج انہ کان بالمدینۃ تسع مساجد مع مسجدہ صلی اللہ علیہ وسلم یسمع اھلھا تأدین بلال فیصلوں فی مساجد ھم زادیحی بن یحی فی روایتہ ولم یکونوا یصلون فی شیء من تلک المساجد الا فی مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اخرجہ البیھقی فی المعرفۃ ویشھد لہ صلوۃ اھل قباء معہ کما رواہ ابن ماجۃ وابن خزیمۃ انتھی عون المعبود۔ شرح سنن ابی داود میں ہے۔ اخرجابو داود فی المراسیل من طریق احمد بن عمر و بن السرح عن ابن وھب عن یونس بن یزید الا یلی عن ابن شھاب قال بلغنا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع اھل العوالی فی مسجد یوم الجمعۃ واخرج ابن ماجۃ عن ابن عمر قال ان اھل قباء کانوا یجمعون مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ وسند ہ حسن واخرج الترمذی عن رجل من اھل قباء عن ابیہ وکان من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان نشھد الجمعۃ من قباء انتھٰی