کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 87
اقول: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو اہلِ عالیہ کو گھر واپس جانے کی اجازت دی اس کی وجہ یہی تھی کہ اجتماع عیدین کی صورت میں نمازِ عید ادا کرلینے سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ جی چاہے نمازِ جمعہ پڑھے ، نہ جی چاہے نہ پڑھے۔ ابوداود میں ہے۔ عن عطاء بن ابی ریاح قال صلی بنا ابن الزبیر فی یوم عید فی جمعۃ اول النھار ثم رحنا الی الجمعۃ فلم یخرج الینا فصلینا وحدانا وکان ابن عباس بالطائف فلما قدم ذکرنا ذلک لہ فقال اصاب السنۃ ’’عطار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھائی جمعہ کے روز سویرے ۔ پھر جب ہم لوگ نمازِ جمعہ کے واسطے حاضر ہوئے تو وہ نہیں نکلے۔ تب ہم لوگوں نے تنہا تنہا نماز پڑھ لی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ طائف میں تھے۔ جب وہاں سے آئے تو ہم لوگوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بیان کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے سنت کے موافق کیا۔ ‘‘ اس حدیث پر منذری رحمۃ اللہ علیہ نے سکوت کیا ہے۔اور عون المعبود شرح سنن ابی داود میں ہے۔رجالہ رجال الصحیح نیز ابو داود میں ہے۔ عن ایاس بن ابی رماۃ الشامی قال شھدت معاویۃ بن ابی سفیان وھو یسال ذید بن ارقم قال اشھدت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اجتمعا فی یوم قال نعم قال فکیف صنع قال صلی العید ثم رخص فی الجمعۃ فقال من شاء ان یصلی فلیصل خلاصہ اس کا یہ ہے کہ’’ معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم نے کبھی جمعہ اور عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن میں پایا ہے؟ زید نے کہاں ہاں معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کیا؟ زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے عید کی نماز پڑھ لی، پھر جمعہ میں رخصت دی۔ اور فرمایا جس