کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 88
کا جی چاہے جمعہ پڑھے۔‘‘ اس حدیث کو اگرچہ بعض نے ضعیف کہا ہے۔ مگر ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ اور علی رحمۃ اللہ علیہ بن مدینی نے اس کی تصحیح کی ہے اور اس مضمون کی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی آئی ہے۔ ان احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ اجتماعِ عیدین کی صورت میں عید کی نماز پڑھ لینے کے بعد جمعہ کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ شہر کا رہنے والا ہو یا بادیہ کا ہر شخص سے نمازِ عید پڑھ لینے کے بعد جمعہ کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ انھیں احادیث کی اقتداء کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اہلِ عالیہ کو گھر واپس چلے جانے کی اجازت دی۔ چنانچہ مؤلف کے استاد جناب مولوی عبد الحی مرحوم التعلیق الممجد میں فرماتے ہیں: اقتدی فیہ عثمان یا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم فانہ لما اجتمع العید ان صلی العید ثم رخص فی الجمعۃ وقال من شاء ان یصلی فلیصل اخرجہ النسائی وابوداود عن زید بن ارقم انتھٰی۔ ’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اہلِ عالیہ کو گھر واپس جانے کی اجازت دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس واسطے کہ جب عید اور جمعہ ایک دن میں جمع ہوئے تھے تو آپ نے عید کی نماز پڑھی پھر نمازِ جمعہ میں رخصت دی۔ اور فرمایا جو چاہے نمازِ جمعہ پڑھے۔ ‘‘ نیز قد اجتمع لکم فی یومکم ھذا عید ان ان کے بعد لفظ من پر فاکا آنا بھی صاف بتارہا ہے۔ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اذن دینے کی علت اجتماعِ عیدین ہی ہے نہ کچھ اور۔نیز حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے قول فمن احب من اھل العالیہ الخ سے عموماً ہر اہل عالیہ کو گھر واپس جانے کا اذن دیا۔ حالانکہ بعض اہلِ عوالی’’جو مدینہ سے صرف ایک میل کی مسافت پر ہیں‘‘عند الحنفیہ بھی نمازِ جمعہ یقینا فرض ہے۔اس واسطے کہ یہ لوگ اہلِ مدینہ کے حکم میں ہیں۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اذن کی علت اگر اہلِ بادیہ ہونا فرض کی جائے تو یہ علت ان بعض اہلِ عوالی میں کیسے درست ہو سکتی ہے۔ نیز جب ان اہلِ عالیہ پر بوجہ اہلِ بادیہ ہونے کے نمازِ جمعہ فرض ہی نہ تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فمن احب من اھل العالیۃ ان ینتظر الجمعۃ فینترھا ومن احب ان یرجع فقد اذنت لھم۔کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔