کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 90
قال : پانچویں دلیل ۔صحیح بخاری میں ہے۔ کان انس فی قصرہ احیانا یجمع واحیانا لا یجمع وھو بالزوایۃ علی فرسخین ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے قصر میں بمقام زاویہ میں(جو شہر بصرہ سے چھ میل پر تھا) رہتے تھے کبھی وہ نماز پڑھتے تھے اور کبھی نہیں پڑھتے تھے۔‘‘ اس اثر سے بھی ثابت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نزدیک قریہ میں نمازِ جمعہ فرض نہ تھی۔ ورنہ احیاناکیوں ترک کرتے۔ اقول: احیانا یجمع واحیانا لا یجمع کا دو مطلب ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرتانس رضی اللہ عنہ مقام زاویہ میں کبھی نمازِ جمعہ پڑھتے تھے اور کبھی یہاں نہیں پڑھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ مقام زاویہ سے جمعہ پڑھنے کے واسطے شہر بصرہ میں کبھی آتے تھے۔ اور کبھی نہی آتے تھے۔ قال الحافظ فی الفتح قولہ یجمع ای یصلی بمن معہ الجمعۃ او یشھد بجامع البصرۃ۔ جناب شوق صاحب چاہیں پہلا مطلب اختیار کریں یا دوسرا کسی صورت میں اس اثر سے نہ قریہ میں جمعہ کا ناجائز ہونا ثابت ہو تا ہے اور نہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نزدیک قریہ میں نمازِ جمعہ فرض نہ تھی۔ اگر پہلا مطلب اختیار کریں تو اولاً میں یہ کہتا ہوں کہ دعویٰ تو آپ کا یہ تھا کہ دیہات میں نمازِ جمعہ ناجائز ونادرست ہے۔ اور دلیل آپ کی یہ ہوئی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ مقام زاویہ میں جو ایک چھوٹی سی بستی ہے کبھی نماز جمعہ پڑھتے تھے اور کبھی یہاں نہیں پڑھتے تھے۔ فرمائیے دلیل دعویٰ کے مطابق ہے؟ اور ثانیاً یہ کہتاہوں کہ اس مطلب سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کبھی کبھی مقام زاویہ میں نمازِ جمعہ نہیں پڑھتے تھے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کہیں بھی نہیں پڑھتے تھے نہ زاویہ میں اور نہ کسی اور مقام میں، بلکہ دوسری روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت