کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 92
الحاصل: حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نمازِ جمعہ کے واسطے بصرہ نہیں آتے تھے تو زاویہ میں ضرور پڑھتے تھے۔پس اس دوسرے مطلب کو اختیار کر کے اس اثر سے یہ ثابت کرنا کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں یا فرض نہیں پر لے درجہ کی ناانصافی ہے۔ دیکھئے جناب شوق !ہم نے آپ کی اس جھٹی دلیل کا علاوہ اس کے کہ فعل صحابہ رضی اللہ عنہ حجت نہیں، ایک دوسرا کیسا معقول جواب دیا ہے۔ اب آپ اپنے اس قول کو کہ اب صلوۃ الجمعۃ فی القری کے وجب کے قائلین بجز اس کے کہ فعل صحابہ حجت نہیں ۔کوئی دوسرا معقول جواب نہیں دے سکتے۔ندامت کے ساتھ واپس لیجئے۔ قال: چھٹی دلیل: بیہقی نے روایت کی ہے۔ عن ابن عمرؓ انہ قال انما الغسل علی من تجب علیہ الجمعۃ والجمعۃ علی من یاتی اھلہ۔ ’’ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ جس پر جمعہ واجب ہے اسی پر غسل ہے۔ اور جمعہ اس شخص پر ہے جو جمعہ پڑھ کر گھر واپس آسکتا ہو۔ یہ اثر صحیح الاسناد ہے۔‘‘ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھا ہے: وصلہ البیھقی باسناد صحیح اور اسی میں یہ بھی ہے۔ ومعنی ھذہ الذیادۃ ان الجمعۃ تجب عند ہ علی من یمکنہ الرجوع الی موضعہ قبل دخول اللیل فمن کان فوق ھذہ المسافۃ لا تجب علیہ عند ہ ۔ پس اس اثر سے ثاببت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس شخص پر جو شہر سے اتنے دور پر رہتا ہو جو شام تک گھر واپس نہیں آسکتا ہو جمعہ واجب نہیں۔ پس یہ اثر بھی قائلین عموم امکنہ کے مخالف ہے۔