کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 93
اقول ـ: اس دلیل کے تین جواب ہیں۔ پہلا جواب اس چھٹی دلیل سے ظاہر ہے کہ اہلِ عوالی پر نمازِ جمعہ ضرور فرض تھی ،کیونکہ اہلِ عوالی مسجد نبوی میں جمعہ پڑھ کر شام تک اپنے اپنے گھر بہت اچھی طرح واپس آسکتے ہیں۔ کیونکہ بخاری ومسلم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھ کر عوالی میں آفتاب بلند رہتے ہوئے پہنچ جاتے تھے۔ پس اہلِ عوالی مسجد بنوی میں نمازِجمعہ پڑھ کر تو بہت سویرے اپنے اپنے گھر واپس آسکتے ہیں۔ اور مؤلف نے پہلی دلیل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قبا میں نمازِ جمعہ درست ہ تھی اور تیسریاور چوتھی دلیل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اہلِ عوالی پر نمازِ جمعہ فرض نہ تھی۔ پس مؤلف کی یہ چھٹی دلیل پہلی اور تیسری اور چوتھی دلیل کی معارض ہوئی۔ لہٰذا بحکم اذا تعار ضا قساقطا یہ چاروں دلیلیں یعنی پہلی اور تیسری اور چوتھی اور چھٹی ساقط اور بیکار ہو گئیں۔ دوسرا جواب کیاوجہ ہے کہ الجمعۃ علی من یأتی اھلہ کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ نمازِ جمعہ اس شخص پرہے جو بالغ ہو۔ لغت عرب میں اتی اھلہ سے جامع مراد لینا شائع ذائع ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: باب ما یقول الرجل اذا اتی اھلہ فتح الباری میں ہے: ای جامع اس باب میں بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث لکھی ہے۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم الجمعۃ واجبۃ علی کل محتلم و علی من راح الی الجمعۃ الغسل پس ہم یہ کہتے ہیں کہ الجمعۃ علی من یاتی اھلہ ۔ سے مراد الجمعۃ علی یمکنہ ان یجامع اھلہ ہے۔ اور اس معنی کی تائید خود ابن عمر رضی اللہ عنہ کی وہ روایت کرتی ہے جس کو انھوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابو داود اور نسائی وغیرہ میں ہے۔