کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 94
عن نافع عن ابن عمر عن حفصہ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الجمعۃ واجبۃ علی کل محتلم وعلی من راح الی الجمعۃ الغسل فتح الباری میں ہے۔ رواتہ ثقات ۔دیکھو یہ روایت صاف بتاتی ہے کہ الجمعۃ علی من یاتی اھلہ کا وہی مطلب ہے جو ہم نے بیان کیا۔ نیز ظاہر ہے کہ یہ معنی احادیث مرفوعہ مذکورہ فی المقدمہ وآیہ جمعہ کے موافق ہے۔ بخلاف اس معنی کے جس کو حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ کہ وہ آیہ جمعہ واحادیث مرفوعہ کے صریح مخالف ہے۔ پس اس حیثیت سے اس معنی کو حافظ کے معنی پر ترجیح ہے۔ تیسرا جواب چونکہ یہ اثراحادیث مرفوعہ وآثار صحابہ رضی اللہ عنہم مذکورہ فی المقدمہ کے مخالف ہے۔ لہٰذا ان احادیث وآثار کے مقابل میں اس اثر کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔ قال :ساتویں دلیل ۔مصنف عبد الرزاق میں ہے۔ انبا الثوری عن زبید الا یامی عن سعد بن عبیدۃ عن ابی عبد الرحمن السلمی عن علیؓؓ قال لا تشریق ولا جمعۃ الا فی مصر جامع یعنی ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ کہاحضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہ تشریق ونماز جمعہ نہیں ہے۔ مگر مصر جامع ہیں۔ اقول :اس ساتویں دلیل کے سات جواب ہیں۔ پہلا جواب آیہ جمعہ سے ہرمقام میں مصر ہو خواہ قریہ خواہ صحرا نمازِ جمعہ کا صحیح ہونا ثات ہے۔ کما مر پس قول علی رضی اللہ عنہ لا تشریق ولا جمعۃ الا فی مصر جامع سے صحت جمعہ کے واسطے مصر شرط نہیں ہو سکتا۔ اس واسطے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک رائے ہے اور رائے سے