کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 95
جمعہ کے لیے مصر کا شرط ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ دیکھو عند الحنفیہ منجملہ شرائط کے سلطان کا ہونا بھی ایک شرط ہے۔ اس شرط کی دلیل صاحب ہدایہ نے لکھی ہے۔ لانھا تقام بجمع عظیم وقد تقع المنزعۃ فی التقدم والتقدیم وقد تقع فی غیرہ فلا بدمنہ اس پر مولانا عبد العلی رحمۃ اللہ علیہ ارکان اربعہ میں لکھتے ہیں۔ ولم اطلع علی دلیل یفید اشتراط امر السلطان وما فی الھدایۃ لانھا تقام ببجمع عظیم فعسی ان تقع منازعۃ فی التقدم والتقدیم الخ ھذا رای لا یثبت بہ الا شتراط لا طلاق نسوص وجوب الجمعۃ انتھٰی دوسرا جواب اگر فرض کیا جائے کہ صحت جمعہ کے واسطے مصرکا ہونا شرط ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ اس شرط کی رعایت صف انھیں لوگوں پر ضروری ہے جو شہر کے رہنے والے ہیں جو شہر میں آکر نمازِ جمعہ بلا تکلف پڑھ سکتے ہیں اور باقی وہ اہلِ قریٰ جو بوجہ بعد مسافت شہر میں نمازِ جمعہ کے واسطے حاضر ہونے سے معذو ر ہیں۔ ان سے یہ شرط بوجہ معذوری ساقط ہیے۔ ان لوگوں کو اپنے اپنے مقام میں نمازِ جمعہ ادا کرنا صحیح ہے۔ دیکھو عند الحنفیہ سلطان یا اذن سلطان صحت جمعہ کے لیے شرط ہے،مگر جب کسی وجہ سے سلطان کا حاضر ہونا معتدد ہو یا استیذان سے معذوری ہو ،تو ایسی صورت میں یہ شرط بوجہ ضرورت ساقط ہو جاتی ہے اور مسلمان کو کسی کو امام بنا کربلا سلطان یا بلااذن سلطان نماز جمعہ ادا کرنا صحیح ہے۔ عالمگیری میں ہے۔ لو تعذر الا ستیذ ان من الامام وجتع الناس علی لاجل یصلی بھمالجمعۃ جاز کذا فی التھذیب ۔ ردالمختار میں ہے۔ ولذالومات الوالی اولم یحضر لنتننۃ ولم یوجد احد ممن لہ