کتاب: مقالات محدث مبارکپوری - صفحہ 98
قال پیر صاحب فہم سمجھ سکتا ہے کہ اگر زمانہ نبوی میں کل اہلِ قر یہ مکلف باقامت جمعہ ہوتے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ہ امر مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔ اور وہ اپنے جی سے ایسی شرط لگا نہیں سکتے تھے۔ اقول :اولا: اس امر کا حضرت علی رضی اللہ عنہ پر مخفی رہ جانا کچھ بعید نہیں ہے۔ دیکھو مخفیاتِ صحابہ رضی اللہ عنہ اور کسی حکم عام کو اجتہاد سے اس کے بعض افراد کے ساتھ مخصوص سمجھ کر باقی بعض افراد کے کارج کرنے کے لیے کوئی شرط لگا نا بھی مستعبد نہیں ہے۔