کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 10
اشاعت دیوبندی مکتب فکر کی مرکزی درس گاہ کے مجلہ میں ہوئی ہے۔ مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے دانش مندوں نے مقامی مصالح کی بنا پر مرکزی اکابر کو استعمال فرمایا ہے اور وہ حضرات بلا تحقیق وتبیین استعمال ہوگئے ہیں۔ اس اختلاف سے بریلوی مکتب فکر جو فائدہ اٹھا رہا ہے اس کی اصلاح کے لیے مسئلہ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ راقم الحروف مولانا محمد انظرا اور مولانا زاہد الحسینی سے ذاتی طور پر نا آشنا ہے اس لیے اس جسارت پر معافی چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بحث مسئلہ کی حد سے تجاوز نہیں کرے گی۔ وماتوفیقی الاباللہ۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد بریلویت نے جس طرح انگڑائیاں لینا شروع کی ہیں۔ اور قادیانیت اور رفض کو جس طرح فروغ ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات اور اہل توحید مبلغین کی مشکلات میں جس قدر اضافہ ہورہا ہے اور ان میں دن بدن ترقی کی جو رفتار ہے اسے شائد ہندوستان کے اکابر نہ سمجھ سکیں۔ پاکستان کے دیوبندی اکابرین جن مصالح اور مقتضیات وقت میں روز بروز گرفتار ہورہے ہیں۔"پیری مریدی" کے جراثیم جس عجلت سے یہاں اثر انداز ہو رہے ہیں اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس پورے ماحول سے آشنا ہیں۔ احسان ہوتا اگر دور کے حضرات اس میں مداخلت نہ فرماتے ہمیں معلوم ہے کہ حکومت پاکستان کے مزاج اور یہاں کے اہل ہوا کے مزاج میں جس قدر توافق کارفرما ہے اس کا علاج مصلحت اندیشوں سے نہیں ہوگا اور نہ ہی مدارس کی مسندیں اس عوامی فتنہ کا مداوا ہو سکیں گی۔ یہ طویل سفر طے ہونے تک ممکن ہے مریض زندگی کی آخری گھڑیاں شمار کرنے لگے۔ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک اس مسئلے کو جو صورت دی جارہی ہے چونکہ اس سے بہت سی شرکیہ بدعات کے دروزے کھل جاتے ہیں اس لیے نامناسب ہوگا اگر اصلاحی تحریک پر اجمالی نظر ڈال لی جائے جو ان بدعات کا قلع قمع کرنے کے لیے وجود میں آئی تھی کیونکہ اس سے مسئلہ کا پس منظر سمجھنے میں مددمل سکے گی گو اس طرح قدرے طوالت ضرور ہوگئی ہے۔ اصلاحی تحریکات کا مدّوجزر: گیارہویں صدی ہجری کے آغاز سے تیرہویں صدی تک طاغوتی طاقتیں گوکافی مضبوط تھیں مگر خدا تعالیٰ کی رحمت کی تابانیاں بھی نصف النہار پر ہیں۔ اس ثنا میں اللہ تعالیٰ نے مصلحین کی ایک باوقار جماعت کو حوصلہ دیا اور کام کا موقع مہیا فرمایا مصلحین کے پرشکوہ اور فعال گروہ اطراف عالم میں نمودار ہوئے فتح وشکست کے اثرات اور نتائج گو مختلف ہیں لیکن مقام شکر ہے کہ ان حضرات کے صبر وعزیمت نے دنیا میں گہرے نقوش اور نہ مٹنے والے آثار آنے والوں کے لیے چھوڑے ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے۔ وفی ذٰلک فلتینا فس المتنا فسون۔ط۔ نجد میں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ اور سعودی خاندان، ایران، افغانستان ، مصر اور شام میں جمال الدین افغانی رحمتہ اللہ اور ان کے تلامذہ ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان اور تلامذہ، ان تمام مصلحین نے اپنے ماحول کے مطابق اپنے حلقوں میں کام کیا۔ اور اپنی مساعی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی ۔ محمد بن عبد اوہاب رحمہ اللہ علمی اور سیاسی طور پر کامیاب ہوئے ۔ جمال الدین افغانی رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اورحضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کا خاندان اور تلامذہ ان تمام مصلحین نے اپنے ماحول کے مطابق اپنے حلقوں میں کام کیا۔ اور اپنی مساعی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔ محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ علمی اور سیاسی طور پرکامیاب ہوئے ۔ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے قابل و مخلص دماغوں کو تربیت دی جن کی وجہ سے مصروشام علم و اصلاح کا گہوارہ قرار پایا۔ اور ان کے فیوض نے ذہنوں کی کا یا پلٹ دی۔ ان حضرات کی کوششوں نے یورپ کے مادی منصوبوں کے سامنے ایسی دیواریں کھڑی کر دیں جن کو عبور کرنا ایسی طاقتوں کے لیے آسان نہیں مصروشام کی آزادی اور دینی تحریکات میں ان مساعی کو بہت بڑا دخل ہے جن کا آغاز مجدد وقت شیخ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ اور سید عبدہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اور اس کی تکمیل میں سید رشید رضا، علامہ مراغی سعدزاغلول اور امیر شکیب ارسلان ایسے بیدار مغزلوگوں نے شب دروز محنت فرمائی اور کافی حدتک ان کو کامیابی ہوئی۔