کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 13
کے باوجودمتاخرین اور متقدمین کی راہ پر رجماً بالغیب چلنے سے حضرت مجدّد رحمہ اللہ نے انکار فرمایا۔ اس کی زندہ شہادت حضرت کے مایہ ناز شاگرد مرزامظہر جان جاناں موجود ہیں جنہوں نے فاتحہ خلف الامام، رفع الیدین عند الرکوع ، وضوع الیدین علی الصدر ایسے مشہور مسائل میں فقہائے محدثین کی راہ اختیار فرمائی ۔ اور فقہ العراق کے ساتھ کلی تعاون سے انکار فرما دیا۔(ابجدالعلوم ،ص900 جلد ۳، محبوب العارفین ص۷٦) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ ولی اللہ سے استفادہ فرمایا ان کی تصانیف ارشاد الطالبین اور تفسیر مظہر شاہد ہیں کہ حنفی ہونے کے باوجود بدعات اور عبّاد قبور کے خلاف ان کا لہجہ کس قدر تلخ ہے اور بدعی رسوم سے انہیں کس قدر نفرت! شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ ،البلاغ المبین ،مصفیٰ اور مسوی، انصاف ، عقد الجید اور تحفتہ الموحدین فقہی جمود، بدعات اور مشرکانہ رسوم کے خلاف ایسی حکیمانہ روش اختیار فرمائی جس سے حقیقت بہت حد تک وضح ہوگئی ۔ اصول فقہ کے بعض مسلمات پر ایسی میٹھی تنقید فرمائی جس سے ذہین طبائع کو جرأت پیدا ہو۔ ازالۃ الخفاء میں بدعت تشیع کو اس قدر عریاں فرمایا کہ ذہین اور دانش مند طبائع کو محبت اہل بیت کے عنوان سے دھوکا دینے کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ ان مختصر ارشادات سے اس تحریک اصلاح اور اقامت دین کا مزاج آپ کو سمجھنا مشکل نہیں۔ دیوبندی اور اہل حدیث: یہ دونوں مکتب ،فکری طور پر اسی تحریک کے ترجمان ہیں یا کم از کم مدعی ہیں کہ ہم اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں،شاہ صاحب کے مندرجہ ذیل گرامی قدر ارشاد سے یہ حقیقت اور بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس تحریک کا مزاج کیا ہے: ’’وصیت اول ایں فقیر چنگ زون است بکتاب وسنت ودراعتقاد عملی پیوستہ بتد بیر ہر دومشغول شدن وہر روز حصہ ازہر دوخواندن اگر طاقت خواندان نہ وارد ورقے ازہر دو شنید ن ودرعقائد مذہب قدماء اہل سنت اختیار کروںو از تفصیل و تفیش آنچہ سلف تفتیش نہ کروہ اند اعراض نمودن وتبشکیکات معقولیان خام التفات