کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 20
واقعات شاہد ہیں کہ یہ لوگ بالکل باطنی فرقہ کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں اور توحید وسنت کی ترقی سے کچھ بوکھلا سےگئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر بالکل یا س کی حالت طاری ہوگئی ہے اور مولانا محمد اسماعیل شہید قدس اللہ روحہ جیسی ہستی کی بے ادبی کرنے کی سزا ان کو یہ ملی ہے کہ ان کے بزرگوں سے علم سلب کرلیا گیا ہے۔ سمجھ دار اور علماء ان حضرات میں روز بروزکم ہورہے ہیں، جہلاء کے ساتھ ربط ، عوام کی شورش وشرارت پسندی کے سوا دنیا میں ان کا کوئی سہارا نہیں ، اہل توحید کی مساجد پر قبضے، شرفاء پرقاتلانہ حملے، خانقاہوں کے مجاوروں کی سفارشوں اور رشوتوں سے مقدمات جتنا ان حضرات کا پاکستان میں عمومی مشغلہ ہے مگر مشترکہ امور میں عوام سے اشتراک ، دوسری جماعتوں کے سٹیجوں سے اور معقولیت سے گفتگو کرنے افہام وتفہیم اور نزاعی امور میں اصلاحی سے عمومًا اس جماعت کے اکابر پرہیز کرتے ہیں احساس کمتری اور لامساس کے مرض میں عمومًا یہ لوگ مبتلا ہیں۔ اللہ تعالی ٰ ہم سب کو اصلاحی ذات البین کی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ مختلف الخیال جماعتیں مل کر اپنے تنازعات کا منصفانہ فیصلہ کرسکیں، لیکن اسکا کیا کیا جائے کہ باطنی فرقہ کی طرح یہ حضرات فسادات کو سرمایہ حیات سمجھتے ہیں۔ محل نِزاع: اس موضوع پر امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے آج تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں محل نزاع کا تعین نہیں فرمایا گیا، امام بیہقی نے ائمہ حدیث کی طرح اس موضوع کے متعلق مواد جمع فرمایا ہے، حافظ سیوطی نے کتاب الروح اور حیات الانبیاء سے استفادہ بھی فرمایا اور بعض احادیث کی توجیہات بھی کی ہیں۔ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الروح سے تو استفادہ فرمایا ہے لیکن معلوم نہیں قصیدہ نونیہ کی طرف ان کی توجہ کیوں مبذول نہیں ہوئی، حالانکہ قصیدہ نونیہ میں حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع کو بہت زیادہ منقح فرمایاہے۔ اہل حدیث اور فقہاء: اہل سنت کے دونوں مکاتب فکر، اصحاب الرائے واہل حدیث کا اس امر پر اتفاق ہے کہ شہداء اور انبیاء زندہ ہیں۔ برزخ میں وہ عبادات تسبیح وتہلیل فرماتے ہیں ان کو رزق بھی ان کے حسب حال اور حسب ضرورت دیا جاتا ہے شہداء کے متعلق حیات کی وضاحت قرآن عزیز میں موجود ہے، انبیاء کی زندگی کے متعلق سنت میں شواہد ملتے ہیں صحیح احادیث میں انبیاء علہیم السلام