کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 23
۴۔ خاں صاحب بریلوی اور مولانا حسین احمد رحمۃ اللہ علیہ نے انبیاء کی حیات کو شہداء کی منصوصی حیات سے ممتاز فرمایا ہے کہ انبیاء کی حیات قوی ہے مگر اس طرح شہداء کو مقیس علیہ قرار دے کر انبیاء کی حیات کو ثابت کرنا درست نہ ہوگا اقوی کو اضعف پر قیاس کرنا اصول کی تصریحات کے خلاف ہے۔ ۵۔ انبیاء کے ترکہ کی تقسیم اور نکاح ازواج کی حرمت کی علّت اگر واقعی دنیوی زندگی ہے تو اس کا حکم شہداء کی آواز اور ترکہ کے متعلق بھی یہی ہونا چاہیئے خاں صاحب اور مولانا نے اس میں خلاف کی صراحت فرمائی ہے ۔ اس لئے حیات انبیاء کے لیے سورۃ بقرہ اور آل عمران کی آیات کو اساسی نہیں قرار دنا چاہیئے۔ ۶۔ ایسے اوہام کو عقیدہ کہنا بھی صحیح معلوم نہیں ہوتا کتب عقائد (شرح عقائد نسفی، عقیدہ طحاویہ، شرح العقیدہ الاصفہانیہ عقیدہ صابونیہ وغیرہ) میں اس کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ کتب عقائد کے سارے مشمولات کے مستقل عقیدہ کی حیثیت بھی محل نظر ہے عقیدہ کے لیے حسب تصریح متکلمین واشاعرہ وماتریدیہ قطعی دلائل کی ضرورت ہے حیات انبیاء کی احادیث اسناد کے لحاظ سے اخباراحادصحیحہ سے بھی فروتر ہیں۔ کما لایخفی علی من لہ نظڑ فی فن الرجال۔ ۷۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت بعض امہات المومنین کی عمر بہت کم تھی خان صاحب بریلوی نے اہل اللہ کی حیاتِ دنیوی کے ساتھ شب باشی کا راستہ بھی کھول دیا (ملفوظات جلد ۳ ص۳۶) (لاحول ولا قوۃ الا باللہ( اکابر دیوبند صرف زندگی کے قائل ہیں اور خیال فرماتے ہیں کہ عقلاً زندگانی کافی ہے حالانکہ حقوق زوجیت کے لیے صرف حیات کافی نہیں کیا اس قسم کے بھونڈے استدلال سے پرہیز ہی زیادہ مناسب نہ تھا؟ ۸۔ موت کی پوری حقیقت تو معلوم نہیں بظاہر فوت جسم اور روح کے انفصال کا نام ہے جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس پرشریعت نے عدت اور تقسیم ترکہ کے احکام مرتب فرمائے ہیں اہل سنت موت کے جسم اور روح کے غیر شعوری تعلق کو مانتے ہیں عدم محض اور کلی فقدان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے مولانا محمد زاہد صاحب کے ارشادات کا آخری حصہ بالکل بے ضرورت ہے پاکستان کے اہل توحید انبیاء علیہم السلام کے متعلق موت کی کسی نئی قسم کے قائل نہیں۔ ۹۔ دنیوی زندگی ماننے سے کوئی عقلی مشکل تو قطعاً حل نہیں ہوگی البتہ بیسیوں مشکلات اور سامنے آجائیں گی جن کا حل کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ عقل مند آپ سے دریافت کریں گے کہ زندہ نبی کو دیوار کی اوٹ میں چھپانے میں کیا حکمت ہے اور اس سے کیا حاصل؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مند خلافت پر کیسے تشریف رکھی؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ترکہ کیوں طلب کیا کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ والد کی زندگی میں یہ مطالبہ درست ہی نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث نحن معاشرالانبیاء فرما کر ان کو مطمئن فرمایا یہ کیوں نہ فرمایا کہ مطالبہ قبل ازوقت ہے فتنہ ارتداد اور بعض دوسرے مصائب میں نہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع نہ کیا حالانکہ زندگی میں بوقت ضرورت دونوں ایک دوسرے کی طرف رجوع فرماتے تھے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کیا خوب فرماتے ہیں۔ لوکان حیاًفی الصریح حیاتہ قبل الممات بغیر مافرقان ماکان تحت الارض بل من فوقھا واللہ ھٰذی سنۃ الرحمان اتراہ تحت الارض حیاثم لا یفتیھم بشرایع الایمان ویریح متہ الا را ء والخلف العظیم وسائر البھتان ام کان حیا عاجزا من نطقہ ومن الجواب لسائل لھفان وعن الحرک فما الحیاۃ اثلات قد اثبتموھا او ضحوا ببیان