کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 24
(قصیدہ نونیہ ص١۴١ طبع مصر) اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی دنیوی ہے تو زمین کے نیچے کے بجائے عادت کے مطابق زمین کے اوپر رہنا چاہیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کے نیچے زندہ ہوں اور فتویٰ نہ دیں صحابہ رحمہ اللہ کو اختلاف اور ان پربہتان سے نہ بچائیں اگر زندہ ہوتے تو سوال کا جواب دیتے نیز اگر حرکت کرنے سے عاجز ہیں تو پھر زندگی نہ رہی جسے آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دنیوی زندگی ماننے کی صورت میں اس قسم کے سینکڑوں عقلی سوال آپ پر عائد ہوں گے اور اسلامی تاریخ ایک معمہ ہوکررہ جائے گی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہا کی شہادت ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح مختار بن عبید ثقفی کی عیاریاں حرہ کا فتنہ ، مسلیمہ اور اسود کی نبوت ، حجاج بن یوسف کے مظالم ، عباسی انقلاب ، سقوط بغداد اور ترکوں کے مظالم ، قادیانی نبوت ایسے حوادث لیکن کہیں بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مداخلت فرمائیں ۔ مسجد کے ایک خادم کی موت پر