کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 25
حضرت بے قرار ہوں اور قبر پر نماز جنازہ ادا فرمائیں اور حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تعزیت کے لیے بھی تشریف نہ لائیں عقل مند اور ذہین لوگ آپ سے دریافت کریں گے کہ آخر یہ کیوں ہے؟ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی تلخی بالکل پر محل ہے۔ یا اقومنا استحیوا من العقلاء والمبعوث بالقران والرحمان واللہ لاقدر الرسول عرفتم کلا ولا للنفس والانسان من کان ھذا القدر مبلغ علمہ فلیستر بالصمت والکتمان ولقد ابان اللہ ان رسولہ میت کما قدجاء فی القرآن (قصیدہ نونیہ ص١۴١) ’’اے قوم! تمہیں خدائے ذوالجلال قرآن اور عقل مندوں سے شرمحسوس ہونی چاہیئے نہ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کو پہنچانا نہ انسانیت اور روح کی اقدار کو تم نے سمجھا جس کا اسی قدر مبلغ علم ہو اسے خاموش ہوکر چپ رہنا چاہیئےاللہ تعالی نے صراحت سے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر موت وارد ہوچکی‘‘ انبیاء کی حیاتِ دنیوی ، اہل بدعت کا مذہب ہے ابن القیم کے بیان سےتو معلوم ہوتا ہے کہ حیات ِ دنیوی اہل بدعت اور معطلہ کا مذہب ہے، قصیدہ نونیہ ص۱۴۰ ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں " ہماری یہ شہادت ہے کہ تم زمین پر قرآن کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے نہ آسمان پر خدا کو تم قابل اطاعت سمجھتے ہو اور نہ ہی تمہارے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں مدفون ہیں"۔ اگر مولوی احمد رضا اس قسم کی بہکی باتیں کہیں تو تعجب نہیں، اہل توحید اور مدرسین حدیث سے اس قسم کے خیالات کا اظہار تعجب انگیز ہے۔ کیا موت انبیاء کے لیے موجب توہین ہے: یہ سمجھ نہیں آیا کہ انبیاء علیہم السلام اور اہل اللہ کے حق میں ہم موت سے گھبراتے کیوں ہیں؟ موت کوئی بری چیز نہیں، نطفہ سے شروع ہوکر قبض روح طفولیت، صبا ، مراہقت ، شباب ، کہولت ، شیخوخت زندگی کےمختلف مرتب ہیں ان میں پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوارض ہیں مگر انبیاء صلحاء، اہل اللہ سب کو اس راہ سے گزرنا ہے اس لیے کسی کے لیےاس میں کوئی منزل نہ تو خوشگوار ہے نہ موجب توہین زندگی بہر حال ان منازل ہی سے تعبیر ہے۔ قرآن عزیز نے فرمایا: خلق السموات والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً(ملک) یعنی موت وحیات اسی دارل الابتلاء کی منازل ہیں جن سے ہر انسان کو گزرنا ہے دنیوی زندگی سے آخرت تک پہنچنے کے لیے موت ایک پل ہے جسے سب کو عبور کرنا ہے، اس میں نہ تحقیر ہے نہ اہانت اگر موت کوئی بری چیز ہے تو انبیاء اور صلحاء پر اسے ایک آن کے لیے بھی نہیں آنا چاہیئے اور اگر واقعی آخرت کے سفر کی یہ بھی ایک منزل ہے تو اس کے لیےپیچ وتاب کھانے کی ضرورت نہیں اسے اسی قانون سے آنا چاہیئے جو ساری کائنات کے لیے اس کے خالق نے تجویز فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو فرمایا:لعلیّ لا القاک بعد عامی ھٰذا(مجمع الزوائد) شائد میں تمہیں آئندہ نہ مل سکوں{اسی طرح ایک خاتون سے فرمایا: ان لم نجدینی فاتی ابابکر(مشکٰوۃ)