کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 26
اگر میں زندہ نہ رہا تو تم (حضرت) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا۔ سورۃ نصر کے نزول پر حضرت صدیق اکبرؓ کو خطرہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ونیا سے رخصت ہوجائیں گے آپ رضی اللہ عنہ رودیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سنا اور ایک لمحہ کے لیے اُسے ناپسند نہیں فرمایا۔ تاریخ سیرت اور سنت کے دفاتر موت کے حوادث سے بھر پور ہیں پھر معلوم نہیں ہم لوگ اس کے ذکر سے لرزہ براندام کیوں ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تذکرہ سے ازدیوبند تابریلی ارتعاش کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے احادیث کی کتابوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ، موت ، تہجیزو تکفین ، دفن کے عنوان موجود ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس سے گھبراہٹ کیوں ہوتی ہے؟ بعض امہات المومنین رضی اللہ عنہمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سر کے بال کٹوا دیے اس لئے کہ اب ان کی ضرورت نہیں(صحیح مسلم) بعض امہات المومنین نے سر بالکل منڈادیا۔(مجمع الزوائد) کیونکہ حضرت انتقال فرما چکے ، اسے موت کہیئے وصال کہیئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلوت گزین فرمایئے کوئی عنوان اختیار فرمایئے حقیقت یہ ہے کہ جسم اور روح کا دنیوی پیوند ٹوٹ چکا ہے یہی موت ہے جو برزخی احوال اور قبر کی زندگی کے منافی نہیں بلکہ اس منزل تک پہنچنے کا ایک صحیح ذریعہ ہے آپ فرمائیں کہ عالم برزخ میں موت اور زندگی میں ترادف ہے تو مجھے اس اعتراض سے انکار نہیں مگر موت کا انکار اہل علم سے ایک شرمناک سانحہ ہے۔ عنوان سے حقیقت نہیں بدلتی: عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے ۔ مولانا حسین احمد کی جلالت قدر اور مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ علیہ کی غزرات ِ علمی اور شیخ عبد الحق کی سادگی اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی جس کا