کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 27
اقرار قرآن حکیم نے محکم آیات میں فرمایا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر اجماع فرمایا ہو اور دنیا کی تاریخ نے اس کی تصدیق فرمائی ہو غرض موت سے گھبراہٹ کا کوئی سوال ہی نہیں یا پھر صراحت فرمایئے کہ موت بری چیز ہے، اس میں حقارت پائی جاتی ہے اور اسے ایک لمحہ کے لیے بھی مت تسلیم فرمایئے واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کفر ہے۔ کراہۃ الموت: قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے موت سے کراہت کفر کی علامت ہے یہودی اور مشرک موت کو ناپسند کرتے تھے۔ ولتجد نھم حرض الناس علی حیوۃ ومن الذین اشرکوا یود احدھم لویعمرالف سنۃ)۹۲:۲( یہودی اور مشرک دنیوی زندگی کے زیادہ خواہش مند تھے وہ چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہزار ہزار سال زندہ رہیں لیکن اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں، عذاب بہرحال ہوکر رہے گا۔ غزوہ احد میں منافق بھی موت ہی سے گھبراتے تھے قرآن عزیز نے فرمایا: [اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَـیَّدَةٍ](النساء:78) تم گچ گنبدوں میں بھی قیام کرو موت ضرور آئے گی)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مباہلہ: انبیاء علیہم السلام اور صلحاء امت جن کا مستقبل انتہائی تابناک اور روشن ہے وہ اس سے کیوں گھبرائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ روحی نے مخالفین کو دعوت مباہلہ دی ہم اگر ان سے موت کی نفی مانیں تو مدعی سست اور گواہ چست کی مثال صادق آئے گی اہل توحید کا مقام ہے کہ اس میں انبیاءعلیہم السلام ہی کی طرح وہ راضی برضاہیں نہ زندگی سے مسرت نہ موت کا غم جو حکم آئے اس کے لیے ہر وقت تیار آخر یہ کیا مصیبت ہے مولانا بریلوی ایک آن کے لیے موت تسلیم کرتے ہیں اگر موت مقام نبوت کے منافی ہے تو ایک آن کے لیے بھی کیوں ہو اگر یہ منافی نہیں تو ان کے لیے اس قانون قدرت کو کیوں بدلا جائے۔ خان صاحب بریلوی کی طویل ایک آن: اور خاں صاحب بریلوی کی "آن" تو اتنی طویل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال سوموار کو ہوا، دفن بدھ کو فرمایا گیا گھر والوں نے تجہیز و تکفین کے انتظامات کیے، دوسرے ساتھیوں نے سقیفہ بنی