کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 28
ساعدہ میں آئندہ خلافت کے متعلق دانش مندانہ فیصلہ فرما لیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ ملائکہ نے پڑھی ایک لاکھ سے زائد صحابہ رضی اللہ عنہم نے پڑھی خان صاحب قبلہ کی ربڑ کی آن ختم نہ ہو سکی یا پھر ملائکہ کو اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی زندگی کا احساس نہیں ہوا۔تیسرے دن اشک بار آنکھوں کے ساتھ جیتے پیغمبر کو دفن کردیا اس زندگی کو نہ بیویاں سمجھ سکیں نہ حضرت فاطمہ جان سکیں مشہد کے شیعہ حضرات آپ سے دریافت کریں گے کہ زندہ درگور کرنے والے آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھی تھے؟ علماء ہیت دریافت کریں گے یہ آن کتنے گھنٹوں کی تھی؟ یا لعقول الطائشہ! ویاللمضحکات! وقد صدق ابن القیم۔ واللہ ماقدرالرسول عرفتم کلا ولا لنفس والا انسان  حیات شہداء کی تحقیق اور اس کی نوعیت: کفار موت کو عدم محض یا کلی فقدان سمجھتے تھےقرآن نے موت کے اس اصطلاحی مفہوم کا شہداء کے حق میں انکار کیا یہ درست ہے ، لیکن قتل کے عنوان سے جسم اور روح کے انفصال کا اعتراف فرمایا یا ان کا خیال تھا کہ موت کے بعد دار فنا میں ان اعمال پر کوئی جزاء مرتب نہ ہوگی قرآن نے اس معنی سے نفی فرما دی اور اس دنیا سے رخصت کے بعد رزق اور نئی زندگی کا اعلان فرمایا جو دنیوی زندگی سے مختلف ہوگی اتنی مختلف کہ دنیا والے اس کا شعور بھی نہیں رکھ سکتے یہ بالکل صحیح ہے لیکن موت بمعنی انفصال روح سے انکار قطعاً غلط ہے اور ہدایت حسی سے جنگ ۔ ولا یرغب عن نفسہ الامن سفہ نفسہ۔ پھر یہ زندگی اگر دنیوی زندگی ہی تھی تو لا تشعرون کیوں فرمایا گیا اور انسان اس قدر بے شعور ہیں کہ اس زندگی کو بھی نہیں سمجھتے جس کی زلف پریشان کے بناؤ سنگار میں پوری زندگی صرف ہورہی ہے یہ تو وہی سوفسطائیت ہوئی جسے عقل گوارا کرتی ہے نہ نقل اس کی تائید کرتی ہے۔ سابقہ عمومی گفتگو کے بعد اس موضوع پر مزید گفتگو کی چنداں ضرورت معلوم نہیں ہوتی اور محل نزاع کی تعیین کے بعد بزرگوں نے جو دلائل ارقام فرمائے ہیں وہ خود بخود ہی ختم ہوجاتے ہیں کیونکہ آیات اور احادیث اور ائمہ سلف کے اقوال میں دنیوی زندگی کا ذکر بالکل نہیں اور حضرات علماء کرام کی آراء قابل احترام ہونے کے باوجود شرعاً حجت نہیں اس کے باوجود مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کمزور تمسکات پر مختصر گفتگو ہوجائے۔ قرآن عزیز نے شہداء کی زندگی کا ذکر سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران میں فرمایا ہے: [وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْیَاۗءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ](البقرۃ:154) [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْیَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ] (آل عمران:169) دونوں آیات شہداء کی زندگی میں نص ہیں اہل سنت کے مکاتب فکر سے کسی نے اس زندگی کا انکار نہیں کیا حضرت مولانا حسین احمدرحمہ اللہ فرماتے ہیں: