کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 31
جیسا کہ گزرا یہ عقیدہ ابن قیم کی تحقیق کے مطابق فرقہ معطلہ کا تھا عقائد کے بارے میں یہ لوگ اپنے وقت کے بدعتی تھے۔ اہل سنت کا عقیدہ شہداء اور انبیاء کی حیاتِ دنیوی کا نہیں حیات برزخی ہے جس کی صراحت شاہ صاحب نے فرمائی ہے۔ علامہ آلوسی حنفی کی تصریحات: شیخ شہاب الدین ابو الفضل السید محمد آلوسی بغدادی نے ۱۲۷۰ھ جو اپنے وقت کے بہت بڑے محقق عراق کے مفتی اور مسلکاً حنفی ہیں روح المعانی (پارہ ۲ بقرہ) میں اس موضوع پر کسی قدر تفصیل سے لکھا ہے۔ انہوں نے حیات ِ شہداء کے متعلق پانچ مسالک کاذکر فرمایا اول جسمانی، دوسری روحانی، باقی مسالک باطل ہیں ، پہلے مسلک کے متعلق فرماتے ہیں ۔ یہ راجح ہے ابن عباس، قتادہ ، مجاہد ،حسن عمرہ بن عبید ، واصل بن عطا، جبائی رمانی اور مفسرین کی ایک جماعت نے یہی پسند کیا ہے۔ جسم کے متعلق اہل علم میں اختلاف ہے بعض اسی جسم کے قائل ہیں جس پر شہادت وارد ہوئی بعض کہتے ہیں کہ اس حیات کا تعلق پرندوں سے ہے جن کا رنگ سبزہوگا ۔ ان کے آشیا نے قندیلیں ہوں گی تیسرا مسلک یہ ہے کہ دنیوی جسم سے ملتا جلتا جسم ان کو عطا ہوگا اس کے بعد فرماتے ہیں : "عندی ان الحیوٰۃ ثابتۃ لکل من یموت من شھید وغیرہ وان الارواح وان کانت جواھر قائمۃ بانفسھا مغایرۃ لما یحس بہ منا لبدن لکن لا من تعلقھا ببدن برزخی مغایر لھذا البدن الکثیف)ص ۲۱ ،پ۲) یعنی حیات برزخی سب کے لیے ثابت ہے شہید اور دوسرے سب اس میں شامل ہیں ارواح قائم بالذات ہیں (مذہب اہل سنت) اس محسوسی دنیوی بدن سے مغایر ہیں لیکن برزخی جسم سے تعلق میں کوئی مانع نہیں یہ دنیوی کثیف بدن سے مختلف ہے ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: "وان ارواح الشھد اء یثبت لھا ھذا التعلق علی وجہ یمتازون بہ عمن عدھم مافی اصل التعلق اوفی نفس الحیوۃ بناء علی انھا من المسکک لا المتواطی۱ھ"