کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 33
اور ایسی حکایت جن میں صدیوں کے بعد شہداء کے اجسام سے خون بہنے کا ذکر ہے یہ سب خرافات ہیں ان کے راوی غیر مستند ہیں اور ان حکایات کی تصدیق کرنےو الے نحیف العقل ہیں۔" تعجب ہے کہ مولانا بدر عالم صاحب ایسے ثقات نے بھی ان روایات کا تذکرہ مجمل تنقید کے ساتھ فرمایا ہے۔ حالانکہ مولوی احمد رضا خاں صاحب اور ان کی پارٹی کے مزخر فات کے جواب میں اس قسم کی روایات پر محد ثانہ تنقید ہونی چاہیئے تاکہ شکوک وغیرہ عامۃ المسلمین کے ذہن کو ماؤف نہ کردیں۔ حافظ ابن جریر کی تصریح : حافظ ابن جریر رحمہ اللہ سورہ بقرہ کی تفسیر میں اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ برزخی زندگی تو سب کے لیے ہے پھر شہداء کی خصوصیت کیاہے۔ انھم مرزوقون من ماکل الجنۃ ومطاعمھا فی برزخھم قبل بعثھم ومنعمون بالذی ینعم بہ داخلو ھابعد البعث من سائر البشر من لذیذ مطاعمھا الذی لم یطعمھا احد فی برزخہ قبل بعثہ ۱ھ(ابن جریر ص۲۴ جلد ۲) شہداء کو جنت کے لذیذ کھانے برزخ ہی میں ملیں گے۔ دوسرے لوگوں کو یہ انعامات برزخ کے جنت میں ملیں گے" یعنی شہداء کی زندگی برزخی ہے دنیوی نہیں ان کا برزخ جنت کی نظیر ہے جنت کے لذیذان کو قبر ہی میں مرحمت فرمائیں جائیں گے ، یہی مزیت ہے جسے حیات سے تعبیر فرمایا اور انہیں میت کہنے سے روکا گیا ہے۔ مولانا نواب محمد صدیق حسن خاں رحمہ اللہ تعالی والی بھوپال مکتب فکر کے لحاظ سے اہل حدیث ہیں اس لیے آپ حضرات کو اس سے یقیناً اختلاف ہوسکتا ہے لیکن وقت نظر وسعت مطالعہ زہد وتقویٰ کے لحاظ سے ان کا مقام یقیناً بہت اونچا ہے اور فہم قرآن میں ان کا ذہن بے حد صاف ہے بہت سے اکابر قدما سے بھی ان کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں: "بل ھم احیاء فی البرزخ تصل ارواحھہ الی لحنان فھم احیاء من ھذہ الجھۃ وان کانو امواز مین جھۃ خروج الروح من الجساد ھم ۔ اھ(فتح البیان ص۲۴ جلد ۱)