کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 35
اس حدیث کے متعلق ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ وحدیث ذکر حیاتھم بقبورھم لما یصح وظاھر النکران فانظر الی الاسناد تعرف حالہ ان کنت ذاعلم بھذا الشان ھذا ونحن لقو لھم احیاء لکن عندنا کحیات ذی الابدان والتراب تحتھم وفوق روسھم وعن الشمائل ثم عن ایمان مثل الذی قد قلتمو ھا معاذنا باللہ من انک ومن بھتان انبیاء کی حیات فی القبور جس حدیث میں مذکور ہے اس کی سند صحیح نہیں اہل فن کو اس کی سند پر غور کرنا چاہیئے اس کے باوجود ہم یقین رکھتے ہیں کہ ان کے مبارک اجسام کے دائیں بائیں نیچے اوپر مٹی موجود ہے اور جس زندگی کے تم قائل ہو اس جھوٹ اور بہتان سے خدا کی پناہ"