کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 36
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نماز حدیث نمبر ۲،۳،۴: حضرت موسی علیہ السلام کی نماز: حدیث ۴،۳،۲میں موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے آپ نے انہیں قبر میں نماز ادا فرماتے دیکھا یہ بھی حیات دنیوی نہیں برزخی ہے قبر میں بھی دیکھا بیت المقدس میں انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی نماز میں شریک ہوئے پھر آسمان پر بھی آپ سے ملاقات فرمائی اور مفید مشورے دیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یونس علیہ السلام کو احرام باندھے شتر سوار تلبیہ کہتے سنا دجال کو بحالت احرام کے لیے جاتے دیکھا عمروبن لحئ کو جہنم میں دیکھا یہ برزخی اجسام ہیں اور کشفی رویت ہیں اگر اسے دنیوی حیات سے تعبیر کیا جائے جو دجال ایسے خبیث لوگوں کو بھی حاصل ہوئی تو انبیاءکی فضیلت کیا باقی رہی انبیاء کی حیات اہل سنت کے نزدیک شہداء سے بھی بہتر اور قوی تر ہے برزخ میں عبادت ، تسبیح ، تہلیل اور رفعت درجات ان کو حاصل ہے اور بعض واقعات صرف مثالی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آیات کبریٰ کے طریق پر دکھائے گئے ان سے زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مولانا نے کتاب الروح لابن القیم سے بعض حکایت نقل فرمائی ہیں تعجب ہے۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے امام ابن حزم کا ایک حوالہ ان کی کتاب الفصل سے نقل فرما کر اس کے بعض حصص پر تنقید فرمائی ہے اس میں اس حیات کا واضح تذکرہ فرمایا ہے۔ قلت ماذکرہ ابن حزم فیہ حق وباطل اما قولہ من ظن ان المیت یحیی فی قبرہ فخطا فھذا فیہ اجمال ان ارادبہ الحیاۃ المعحودۃ فی الدنیا التی تقوم فیہ الروح بالبدن وتد بیرہ وتصرفہ ویحتاج معھا الی الطعام والشراب فھذا خطاء کما قالہ والحس والعقل یکذبہ کما یکذبہ النص وان ارادبہ حیاۃ اخریٰ غیر ھذہ الحیاۃ بل تعاد الروح الیہ غیر العادۃ المالوفۃ فی الدنیا الیسئل ویمتحن فی قبرہ فھذا حق ونفیہ خطاء قد دل علیہ النص الصریح فتعادروحہ فی جسدہ ۱ھ (کتاب الروح ص۵۲)۔ یعنی اگر زندگی سے دنیوی زندگی اور اس کے لوازم مراد ہیں تو یقیناً یہ غلط ہے ایسی زندگی میت کو حاصل نہیں ہوتی اگر اس سے مراد دنیوی زندگی کے علاوہ جس میں روح کے اعادہ معتاد زندگی کی طرح نہ ہو اس کا مقصد صرف سوال