کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 40
موجب استعجاب ہے۔ ان احادیث میں ضعیف اور انقطاع موجود ہے لیکن مسئلہ چونکہ درود کے فضائل کا ہے اس میں حلال وحرام یا عقائد کی بحث نہیں اس لیے ابن القیم رحمہ اللہ ایسے ائمہ حدیث تک نے تسامح سے کام لیا ہے۔ بنابریں تعدد طرق سے اس کی تصیحح کی گئی اور عوام میں مشہور تھے کہ فضائل میں اس قسم کی احادیث کو قبول کرلیتے ہیں اہل تحقیق کے نزدیک یہ اصل بھی خود محل نظر ہے۔ جلاء الافھام میں جیسا کہ اوپر ذکر ہواہے حدیث میں ابوالدرواء پر طویل بحث فرمائی ہے انقطاع اور تصنیف کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے انقطاع کے لیےشواہد جمع فرماتے ہیں گووہ شواہد خود محل نظر ہیں ۔ خود حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ان شواہد کے متعلق بھی علل کا تذکرہ فرمایا ہے لیکن یہ تمام شواہد کترت صلوٰۃ کے متعلق جمع فرمائے گئے اور یوم الجمعہ کی تخصیص کو زیادہ تر پیش نظر رکھا گیا ہے اس حد تک کوئی حرج نہیں کے دن کثرت صلٰوۃ کے متعلق ان شواہد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عقیدہ حیات اور اس کے نتائج: لیکن اب مشکل یہ ہے کہ بریلوی مکتب فکر اور بعض اکابر دیوبند نے ان ضعاف مقطوعات سے عقیدہ حیاتِ دنیوی ثابت کرنے کی کوشش فرمائی ہے اور اس بدی تصور کو متواتر عقیدہ کا نام دینا شروع کیا ہے اس لیے پورے یقین سے سمجھ لینا چاہیئے کہ تعداد طرق اور شواہد کے باوجود یہ اسانید اس قابل قطعاً نہیں کہ ان پر کسی عقیدہ کی بنیاد رکھی جائے ۔ پھر ان طرق اور شواہد میں حیات انبیاء کا ذکر نہیں بلکہ اکثرواعلی الصلوۃ یوم الجمعۃ، پر زور دیا گیا ہے جن طرق اور شواہد میں حیات کا ذکر صراحۃ ہے ان میں کوئی بھی صحیح نہیں صحیح لغیرہ احادیث سے عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا، امت میں کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا جن اہل علم سے ان احادیث کی توثیق نقل کی جارہی ہے ان میں نہ کوئی دنیوی زندگی کا قائل ہے نہ ہی ان مباحث میں کسی نے اس بدعی عقیدہ کو ثابت کرنے کی سعی فرمائی ہے سب سے زیادہ بحث اس مقام پر حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمائی ہے وہ حیات دنیوی کے قائل نہیں ان احادیث ۔۔۔۔سے مطلق کو بھی انہوں نے ثابت کرنا پسند نہیں کیا۔ اس لیے ان مباحث سے سے اس مخترعہ عقیدہ پر استدلال تاویل بما لایرضی بہ القائل ہے جسے اہل علم ودانش نے کبھی پسند نہیں فرمایا۔