کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 41
حدیث نمبر ۶: یہ صحیح ہے اس میں سلام کے وقت روح کا ذکر ہے یہ حیات دنیوی کے خلاف ہے۔ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے جس قدر جوابات دیئے ہیں ان میں اکثر مناظرانہ انداز کے ہیں اور جن پر حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے کچھ اعتماد ظاہر فرمایا وہ حیات دنیوی کے خلاف ہے۔ ان جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حافظ سیوطی رحمہ اللہ کا اپنا ذہن اس حدیث سے متعلق صاف نہیں جوابات میں تذبذب اور خبط نمایا ں ہے۔ رہا مولانا حسین احمد صاحب مرحوم کا ارشاد گرامی سووہ نص حدیث کے مخالف ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک سلام کا جواب دینے کے لیے رو کی جاتی ہے مولانا کے ارشاد کے مطابق روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتااس حدیث کے مفہوم پر نظر ثانی کی ضرورت ہے مولانا مدنی رحمہ اللہ کے جواب سے حدیث کا مفہوم صاف نہیں ہوتا۔ حدیث نمبر ۷: اسراء کی رات کو انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کا ذکر ہے معلوم نہیں اس سے حیات دنیوی کا استخراج کیسے ہوگا ائمہ سنت کے اس کے متعلق دو ہی مشہور مسلک ہیں بعض اس ملاقات کو روحانی سمجھتے ہیں (فتح الباری ص۴۵۲ پ۱۰) میں ایک حدیث بزار اور حاکم سے منقول ہے ۔انہ صلی فی بیت المقدس مع الملائکۃوانہ اتی ھناک بارواح الانبیاء فاثنوا علی اللہ ھ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقد س میں ملائکہ کو نماز پڑھائی اور وہاں انبیاء علیہم السلام کی روحیں لائی گئیں " دنیوی زندگی کا یہ غلط دعویٰ مصیبت ہوگیا ہے اور احادیث میں تطبیق ناممکن ۔ دوسرا مسلک یہ ہے کہ برزخ سے ان ارواح کو مماثل اجسام دیے گئے اور ان اجسام نے بیت المقدس میں شب اسراء میں ملاقات فرمائی ان کا ذکر بھی حافظ ابن حجر فتح الباری (پ۱۵ ص۴۰۹ جلد۳) میں فرماتے ہیں: ان ارواحھم مشکلۃ بشکل اجسادھم کما جزم بہ الوالوفأ ابن الحقیل ۱ھ۔ یہ دونوں صورتیں برزخ ہی ہوسکتی ہیں اسے دنیوی زندگی کہنا تو دانش مندی نہیں اس کے بعد حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تصریح فرماتے ہیں۔ لانہ بعد موتہ وان کان حیاً فھیھیاۃ اخرویۃ لاتشبہ الحیاۃ الدنیا(پ۱۶ ص۳۶ ج۴) اور (پ۱۴ ص۲۸۳ ج۳) میں فرمایا وھذا الحیات لیست دنیویہ انماھی اخرویۃ انتھیٰ تلخیص الخبیر ص۱۶۲ میں بہیقی سے نقل فرمایا الانبیاء احیاء عندربھم کالشھداءیہ عنداللہ حیات برزخی اخروی ہوسکتی ہے اسے کبھی کوئی سمجھ دار دنیوی حیات تو نہیں کہہ سکتا۔ موسیٰ علیہ السلام کی نماز حج، ہارون علیہ السلام، یونس علیہ السلام ، حضرت مسیح علیہ السلام اور دجال کا احرام یہ سب حقائق مثالی ہیں برزخی ، دنیوی تو نہیں ہوسکتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا حضرت ابراہیم فوت ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لہ ظئران تکملان رضا عہ فی الجنۃ(مشکوٰۃص۵۰۲) اس کی مدت رضاعی جنت میں عورتیں پوری کریں گی" آپ کے خیال سے حضرت ابراہیم کو دنیوی زندگی ملی۔ حالانکہ نہ وہ نبی ہیں نہ شہید اس مطلب کی بیسیوں احادیث سنت کی کتابوں میں ملتی ہیں اگر ان سے دنیوی حیات ثابت کی جائے تو پھر یوں فرمائیں کہ دنیا میں کوئی مرتا ہی نہیں۔