کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 43
آپ کے موافق جب برزخ میں وسعت ہے اور یہ دور دنیا سے بہتر ہے تو فرمائیے آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برزخ سے دنیوی زندگی میں لانے کی کیوں کوشش فرماتے ہیں برزخی زندگی دنیوی زندگی سے بدرجہا اعلیٰ اور ارفع ہے۔ خاں صاحب بریلوی اور ان کے اتباع عقل اور علم سے بے نیاز ہیں لیکن آپ حضرات غور فرمائیں اہل توحید تو علم وعقل سے خالی نہیں ہوتے؟ ان فی ذالک لاٰیات لاولی النھٰی، مضمون کے بعض حصص پر مزید لکھا جاسکتا ہے۔میرا مقصد بحث ومناظرہ نہیں یہاں کے حالات کا تقاضایہ ہے کہ بیرونی حضرات ان کے متعلق اظہار رائے کی کوشش نہ فرمائیں یہاں کا ماحول یہاں کے اہل علم بہتر سمجھ سکتے ہیں لادینی حالات پیدا کرنے کے لیے جوحالات پیدا کیے جارہے ہیں شائد آپ حضرات ان سے واقف ہیں اس لیے مناسب نہ ہوگا کہ مستقبل کی ذمہ داری آپ حضرات پر عائد کی جائے اور آپ کے ان مکاتیب اور خطابات سے غلط فائدہ اٹھایا جائے اللہ تعالی ٰ ہم سب کو توفیق مرحمت فرمائے کہ ہم اسلام کی سربلندی کے لیے کچھ کرسکیں، قادیانیت ، رفض اور بدعت جن چور دروازوں سے آرہی ہیں ہم ان ابواب کے کھولنے کا سبب نہ بنیں۔ مندرجات رسالہ حیات النبی پر ایک سرسری نظر مجلہ "دارالعلوم" دیوبند کے مضمون حیات النبی سے متعلق میں اپنی تنقیدی گزارشات "رحیق" میں اشاعت کے لیے دے چکا تھا ۔ اتفاقًا رسالہ"حیات النبی" موئفہ مولانا اخلاق حسین ملاجس کا پیش لفظ مولانا سید ابوذر بخاری نے لکھا ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں جوانی کے جوش کےسوا کچھ نہیں اور بات یہ ہے کہ جہاں دلائل بالکیۃ ناپید اور نصوص صراحۃً خلاف ہوں وہاں مکتب خیال کی دہائی اور کھینچا تانی کے سوا ہوبھی کیا سکتا ہے یہی ہوسکتا ہے کہ نوجوان مل کرزور لگائیں زبان کی طاقت اور قوت بازو سے نصوص کو پھیر نے کی کوشش کریں اس سے کم از کم تھوڑی دیر تک اذہان کا رخ پھیر لیں گے اور مکتب خیال کے بزرگوں کی رفعت شان کا واسطہ دے کر گرتی دیوار کو تھوڑی دیر کے لیے سنبھالا دے دیں مولانا اخلاق حسین اور ابوذر صاحب نے بھی یہی کچھ کیا ہے اس لیے مجھے اس رسالہ کے ابتدائی حصہ کے متعلق کچھ بھی گزارش کرنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی ۔ میں نے اپنے بعض دوستوں سے سنا تھا کہ حضرت مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی موضوع پر ایک رسالہ لکھا ہے مجھے یہ رسالہ کوشش کے باوجود نہ مل سکا مگر پیش نظر رسالہ کے ص۱۸