کتاب: مسئلہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - صفحہ 44
پر حضرت مولانا قاسم رحمہ اللہ کے رسالہ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمالیں ۔ مولانا کے رسالہ کا نام "آب حیات" ہے یہ اقتباس ص۲۳۲ سے لیا گیا ہے۔ مولانا نے اسی حدیث یرداللہ علی روحی کی توجیہ فرمانے کی کوشش فرمائی یہ حدیث چونکہ دیوبندی مکتب خیال کے خلاف ہے اس لیے اس کی تاویل فرمائی گئی ہے کہ یہ راستہ سے ہٹ جائے حضرت کا ارشاد روح پر فتوح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جب منبع اور اصل ارواح باقیہ خصوصاً ارواح مومنین امت ٹھہری تو جونسا امتی آپ پر سلام عرض کرے گا اس کی طرف کا شعبہ لوٹے گا۔ ارتداد جملہ شعب لازمی نہیں اور ظاہر ہے کہ اس شعبہ کا ارتداد باعث اطلاع سلام تو ہو گا پر موجب زوال استغراق مطلق نہ ہوگا آخر شعب غیر متناہی اور ہیں۔ حضرت مولانا کی جلالت قدر ، دقت نظر ، وسعت معلومات تقویٰ للہیت معلوم اور مسلم ہے قلم لرزتا ہے کہ مجھ ایسا کم سواد علم وحکمت کے سمند ر کے خلاف تنقید کا اختیار کرے لیکن اس کا کیا جائے کہ بحمداللہ ذہن میں تقلید وجمہود کے جراثیم نہیں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی اُمی کے بعد یقین سے کوئی معصوم نہیں، اس لیے سوچتا ہوں کہ اس مختصر سے اقتباس میں سے کیا اتنے بڑے متجر فاضل نے افسوس ہے کوئی دلیل نہیں دی اور ایسی کوئی چیز بھی نہیں لکھ سکے جوذہن کو اپیل کرے اور یہ مصیبت اس لیے پیش آئی کہ ان حضرت نے ایک غلط نظریہ اپنالیا کہ انبیاء کہ حیات برزخی نہیں جسمانی اور دنیوی ہے، حضرت رحمہ اللہ نے"مجازات کی زبان میں روح کو جسے قرآن نے امر فرمایا مرکب تصور کیا پھر شعب لامتنا ہی تصور فرمایا پھر اس مرکب کے اجزاء سے ہر ایک کی توجہ مختلف سمتوں میں منقسم ہوسکتی ہے پھر انقسام توجہ کے باوجود استغراق پر مطلب اثر نہیں پڑتا پھر یہ روح عام ارواح کے لیے اور مومنین کی ارواح کے لیےمنبع ہے، یعنی مسلم اور غیر مسلم ارواح کا انشعاب اسی روح سے ہوتا ہے اور مومنین کی ارواح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پر فتوح سے خاص نسبت اور تعلق ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم رحمہ اللہ کے ارشاد گرامی کا اقتباس آپ کے سامنے ہے بظاہر اس میں کوئی اخلاق نہیں مجازو استعارات کے انداز میں جو کچھ فرمایا ہے وہ الفاظ کے ہیر پھیر کے سوا کچھ نہیں کتاب و سنت سے کوئی نص یا اشارہ حضرت نے اپنے اس فکر کی تائید میں ذکر نہیں فرمایا: قرآن عزیز نے روح کے تذکرہ میں جامع ار مناسب راہنمائی فرمائی ہے۔ [قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا ](الاسراء:85) ذرا غور کرلیا ہوتا کہ امر کی تفصیلات میں جانا اس کے غیر متناہی شعب کا تذکرہ ہوتا تو قرآن اسے ضرور بیان فرما دیتا مولوی اخلاق حسین صاحب نے ص۱۷ پر زادالمعاد سے ایک اقتباس نقل فرمایا ہے اس کا اور مولانا کے اقتباس کا موازنہ فرمایئے ۔ حافظ رحمہ اللہ کا ارشاد کس قدر اقرب الی السنۃ ہے اور احادیث میں تطبیق کے لیے کس قدر موزوں اور مناسب، مولانا قاسم کی منطق ملاحظہ فرمایئے وہ قطعی بے جان ہے الفاظ کی شعبدہ بازی سے زیادہ اس میں کچھ نہیں اور حدیث یرد اللہ علی روحی کے سامنے رکھا جائے تو پوری تقریر کی حیثیت ہوائی سی ہوجاتی ہے اور حدیث کے الفاظ سے بالکل الگ اور مختلف ہے۔